CBSE Class 12 Urdu Elective Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download

Class 12 Urdu Elective Solved Model Papers: CBSE Class 12 Urdu Elective Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download

Explore authentic exam practice materials through the CBSE Class 12 Urdu Elective Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download. Tailored for Class 12 learners, utilizing these Urdu Elective sample papers ensures thorough preparation and strengthens time management skills before final CBSE evaluations.

Download Class 12 Urdu Elective Sample Paper PDF

Navigate directly to the solved Urdu Elective model papers using the digital viewer below. Each practice set includes detailed solutions, allowing students to instantly cross-check their work and identify areas requiring further revision.

Section A (حصہ الف)

 

1. مندرجہ ذیل غیر درسی (نثری) اقتباس کو غور سے پڑھیے اور اس سے متعلق دیے گئے سوالوں کے متبادل جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔ (5x1=5) [5 Marks]

عصرِ حاضر میں قدرتی وسائل کا استحصال عام بات ہو گئی ہے۔ جنگلوں کی بے تحاشہ کٹائی اور روزانہ سڑکوں و پٹریوں پر دوڑنے والی گاڑیوں سے لاکھوں ٹن دھواں نکلتا ہے جو ہمارے ماحول کی آلودگی کے اہم اسباب ہیں۔ کارخانوں اور فیکٹریوں سے لاکھوں ٹن زہریلا کچرا اور فاسد مادّے ندیوں میں بہا دیے جاتے ہیں۔ بے قابو شہر کاری صنعتوں و کارخانوں اور کاشتکاری میں کیمیائی اشیا کے اندھا دھند استعمال کی وجہ سے اب جنگلی جانور، پرندے اور حشرات بھی کم ہوتے نظر آتے ہیں۔ بدلتی ہوئی آب و ہوا، انسانی مداخلت اور خوردنی اشیا میں شامل ہوتے زہریلے مادے جانداروں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔ موسموں کا مزاج بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ کسی بھی وقت موسلا دھار بارش کا ہونا، بادلوں کے پھٹنے کی تعداد میں مسلسل اضافہ اور درجۂ حرارت میں دن بہ دن بڑھوتری غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں کہ ہم انسان اپنا محاسبہ کریں کہ کیا ہم ماحولیات کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔

 

(i) ماحول کی آلودگی کا اہم سبب کیا ہے؟ [1 Mark]
(a) کاغذ کی چھپائی
(b) جنگلوں کی کٹائی
(c) سبزیوں پر کیمیاوی کھاد کا استعمال
(d) بے تحاشہ محنت

Answer: (b) جنگلوں کی کٹائی

Teacher's Note:
a) اقتباس کے دوسرے جملے میں جنگلوں کی بے تحاشہ کٹائی کو آلودگی کا اہم سبب بتایا گیا ہے۔
b) کاغذ کی چھپائی اور محنت کا اقتباس میں کوئی ذکر نہیں، ان سے بچیے۔

 

(ii) کارخانے اور فیکٹریوں سے کیا چیز ندیوں میں بہائی جاتی ہے؟ [1 Mark]
(a) فاسد مادے
(b) دھاتیں
(c) پلاسٹک
(d) فیکٹریوں کی پیداوار

Answer: (a) فاسد مادے

Teacher's Note:
a) اقتباس کے مطابق زہریلا کچرا اور فاسد مادّے ندیوں میں بہا دیے جاتے ہیں۔
b) دھاتیں اور پلاسٹک اقتباس میں مذکور نہیں ہیں۔

 

(iii) حشرات کسے کہتے ہیں؟ [1 Mark]
(a) تیرنے والے جانور
(b) اڑنے والے پرندے
(c) کیڑے مکوڑے
(d) پیڑ پودے

Answer: (c) کیڑے مکوڑے

Teacher's Note:
a) "حشرات" کے معنی کیڑے مکوڑے ہیں۔
b) اقتباس میں جانور اور پرندے الگ سے گنوائے گئے ہیں، اس لیے حشرات ان سے مختلف ہیں۔

 

(iv) زہریلے مادّے کن اشیا میں شامل ہو رہے ہیں؟ [1 Mark]
(a) دستکاری کی اشیا
(b) خوردنی اشیا
(c) پیڑ پودے
(d) فاسد اشیا

Answer: (b) خوردنی اشیا

Teacher's Note:
a) اقتباس میں "خوردنی اشیا میں شامل ہوتے زہریلے مادے" کا ذکر ہے۔
b) خوردنی اشیا یعنی کھانے پینے کی چیزیں۔

 

(v) کسی بھی وقت موسلا دھار بارش کا ہونا اور بادلوں کا پھٹنا کس بات کی طرف اشارہ ہے؟ [1 Mark]
(a) ماحولیات کا تحفظ
(b) ہماری ذمہ داری
(c) انسانی استحصال
(d) موسموں کا بدلتا مزاج

Answer: (d) موسموں کا بدلتا مزاج

Teacher's Note:
a) اقتباس میں "موسموں کا مزاج بدلتا ہوا نظر آتا ہے" کے بعد ہی ان مثالوں کا ذکر ہے۔
b) سوال کے الفاظ کو اقتباس کے متعلقہ جملے سے ملا کر جواب چنیے۔

یا

تعلیم اور اسکول کا آپس میں بہت گہرا رشتہ ہے اسکول کے اساتذہ طالب علم کو پڑھنے لکھنے اور سوچنے سمجھنے کے قابل بناتے ہیں اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ اسکول صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں طالب علم کی شخصیت نکھرتی اور سنورتی ہے۔ بچہ جب پہلی بار اسکول جاتا ہے تو وہ بہت سی چیزوں سے لاعلم ہوتا ہے۔ اسکول کا ماحول اور وہاں کے اساتذہ اسے نصابی کتابوں کے ساتھ زندگی کی اچھی اور بری چیزوں سے بھی روشناس کراتے ہیں۔ اسکول کے بغیر تعلیم کا تصور ادھورا ہے۔ اسکول بچوں کی ہمہ جہت تربیت کا مرکز ہے۔ یہاں سچائی، ایمانداری، محنت، نظم و ضبط اور بھائی چارے جیسی خوبیاں پروان چڑھتی ہیں۔ ان خوبیوں کا حامل شخص سماج کا پسندیدہ اور کارآمد انسان کہلاتا ہے۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب معیاری تعلیم کے ساتھ مخلص اور قابل اساتذہ موجود ہوں اور تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیا جائے۔

 

(i) پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا مطلب ہے؟ [1 Mark]
(a) ڈانٹنا
(b) تعریف کرنا
(c) تربیت دینا
(d) سزا دینا

Answer: (c) تربیت دینا

Teacher's Note:
a) چھپی ہوئی صلاحیتوں کو ابھارنا دراصل بچے کی تربیت کرنا ہے۔
b) ڈانٹنا اور سزا دینا اس کا الٹا مطلب دیتے ہیں۔

 

(ii) اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ اور کس بات کا موقع ملتا ہے؟ [1 Mark]
(a) لاعلمی کا
(b) شخصیت کو نکھارنے اور سنوارنے کا
(c) نامانوس ہونے کا
(d) خلاؤں میں پرواز کا

Answer: (b) شخصیت کو نکھارنے اور سنوارنے کا

Teacher's Note:
a) اقتباس کے مطابق اسکول میں طالب علم کی شخصیت نکھرتی اور سنورتی ہے۔
b) "لاعلمی" تو اسکول آنے سے پہلے کی حالت ہے، اس سے بچیے۔

 

(iii) نصابی کتاب کا مطلب؟ [1 Mark]
(a) درسی کتاب
(b) مذہبی کتاب
(c) فلمی کتاب
(d) کھیلوں کی کتاب

Answer: (a) درسی کتاب

Teacher's Note:
a) نصاب میں شامل کتاب کو نصابی یا درسی کتاب کہتے ہیں۔
b) "نصاب" اور "درس" کا تعلق پڑھائی سے ہے، یہی پہچان یاد رکھیے۔

 

(iv) ہمہ جہت تربیت سے مراد ہے؟ [1 Mark]
(a) نصاب کی آموزش
(b) زبان کی آموزش
(c) کھیل کود میں شرکت
(d) اوپر کے سبھی

Answer: (d) اوپر کے سبھی

Teacher's Note:
a) "ہمہ جہت" کا مطلب ہے ہر پہلو سے، اس لیے سبھی پہلو اس میں شامل ہیں۔
b) جب ہر آپشن ایک پہلو ہو تو "اوپر کے سبھی" پر غور کیجیے۔

 

(v) سماج کا پسندیدہ اور کارآمد انسان کون ہوتا ہے؟ [1 Mark]
(a) مخلص اور قابل استاد
(b) لاپرواہ طالب علم
(c) تخلیقی اور تنقیدی سوچ والا انسان
(d) سچا، ایماندار، محنتی انسان

Answer: (d) سچا، ایماندار، محنتی انسان

Teacher's Note:
a) اقتباس کے مطابق سچائی، ایمانداری اور محنت جیسی خوبیوں کا حامل شخص سماج کا پسندیدہ اور کارآمد انسان کہلاتا ہے۔
b) "ان خوبیوں کا حامل" والے جملے کو اس سے پہلے والے جملے سے جوڑ کر پڑھیے۔

 

2. مندرجہ ذیل (درسی) اقتباس کو غور سے پڑھیے اور اس سے متعلق سوالات کے معروضی جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔ (5x1=5) [5 Marks]

جب علی گڑھ میں ایم۔اے کرنے کے دوران تنقید کے پرچے سے ہمارا سابقہ پڑا تو ہم نے کلیم الدین احمد کی کتابیں ’’اردو تنقید پر ایک نظر‘‘ اور ’’اردو شاعری پر ایک نظر‘‘ غور سے پڑھیں۔ اسی زمانے میں ہم نے اردو ناقدین کی ایک پیروڈی ’’کپور کا فن‘‘ عنوان سے لکھی۔ اس میں کلیم الدین احمد کے انداز بیان کا بھی چربہ اڑایا جو بے حد پسند کیا گیا۔ سرسید ہال میگزین ’’اسکالر‘‘ کا میں ایڈیٹر تھا، اس کا پیروڈی نمبر نکالا۔ پہلی بار یہ پیروڈی اس میں یا علی گڑھ میگزین میں شائع ہوئی تھی۔ کلیم صاحب کے ایک شاگرد ہمارے گہرے دوست تھے۔ ان کے اصرار پر ہم نے وہ رسالہ کلیم صاحب کو ڈاک سے بھیج دیا۔ ان صاحب کا کہنا تھا کہ کلیم صاحب کو خط کا جواب دینے کی عادت نہیں ہے مگر وہ بہت پڑھتے ہیں اور آپ کا مضمون ضرور پڑھیں گے اور پسند کریں گے۔

 

(i) درج بالا اقتباس کا تعلق نثر کی کس صنف سے ہے؟ [1 Mark]
(a) داستان
(b) افسانہ
(c) رپورتاژ
(d) خاکہ

Answer: (d) خاکہ

Teacher's Note:
a) اقتباس میں ایک حقیقی شخصیت، کلیم الدین احمد، کی یادیں اور خصوصیات بیان کی گئی ہیں، یہ خاکے کی پہچان ہے۔
b) داستان اور افسانہ خیالی کہانیاں ہوتی ہیں، اس لیے یہ جواب نہیں۔

 

(ii) اس کے مصنف کا نام کیا ہے؟ [1 Mark]
(a) رام لعل
(b) احمد جمال پاشا
(c) کرشن چندر
(d) سجاد ظہیر

Answer: (b) احمد جمال پاشا

Teacher's Note:
a) کلیم الدین احمد پر یہ خاکہ احمد جمال پاشا کا لکھا ہوا ہے۔
b) درسی اسباق کے ساتھ ان کے مصنفین کے نام یاد رکھیے۔

 

(iii) ’’اردو تنقید پر ایک نظر‘‘ اور ’’اردو شاعری پر ایک نظر‘‘ یہ کس کی کتابیں ہیں؟ [1 Mark]
(a) سید احتشام حسین
(b) پریم چند
(c) کلیم الدین احمد
(d) آل احمد سرور

Answer: (c) کلیم الدین احمد

Teacher's Note:
a) جواب اقتباس کے پہلے جملے میں موجود ہے۔
b) احتشام حسین اور آل احمد سرور بھی نقاد ہیں، اس لیے جواب اقتباس سے ملا کر چنیے۔

 

(iv) سرسید ہال میگزین کا نام کیا ہے؟ [1 Mark]
(a) اسکالر
(b) مخزن
(c) معارف
(d) سرسید میگزین

Answer: (a) اسکالر

Teacher's Note:
a) اقتباس میں صاف لکھا ہے: سرسید ہال میگزین ’’اسکالر‘‘۔
b) مخزن اور معارف دوسرے رسالوں کے نام ہیں۔

 

(v) کلیم صاحب کو کس کا جواب دینے کی عادت نہیں ہے؟ [1 Mark]
(a) بات کا
(b) خط کا
(c) سوال کا
(d) فون کا

Answer: (b) خط کا

Teacher's Note:
a) جواب اقتباس کے آخری جملے میں ہے۔
b) سوال کے الفاظ "جواب دینے کی عادت" کو اقتباس میں تلاش کیجیے۔

یا

’’اتنے بڑے ڈیل ڈول کا انسان ذرا سے بھنگے پر قابو نہیں پا سکتا۔ طرح طرح کے مسالے بھی بناتا ہے کہ ان کی بو سے مچھر بھاگ جائیں۔ لیکن مچھر اپنی یورش سے باز نہیں آتے۔ آتے ہیں اور نعرے لگاتے ہوئے آتے ہیں۔ بے چارہ آدم زاد حیران رہ جاتا ہے اور کسی طرح ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ امیر، غریب، ادنیٰ، اعلیٰ، بچے، بوڑھے، عورت، مرد کوئی اس کے وار سے محفوظ نہیں۔ یہاں تک کہ آدمی کے پاس رہنے والے جانوروں کو بھی ان کے ہاتھ سے ایذا ہے۔ مچھر جانتا ہے کہ دشمن کے دوست بھی دشمن ہوتے ہیں۔ ان جانوروں نے میرے دشمن کی اطاعت کی ہے تو میں ان کو بھی مزا چکھاؤں گا۔ آدمیوں نے مچھر کے خلاف ایجی ٹیشن کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ہر شخص اپنی سمجھ اور عقل کے موافق مچھروں پر الزام رکھ کر لوگوں میں ان کے خلاف جوش پیدا کرنا چاہتا ہے۔ مگر مچھر اس کی کچھ پروا نہیں کرتا۔‘‘

 

(i) مندرجہ بالا اقتباس نثر کی کس صنف سے لیا گیا ہے؟ [1 Mark]
(a) ناول
(b) افسانہ
(c) انشائیہ
(d) رپورتاژ

Answer: (c) انشائیہ

Teacher's Note:
a) ایک معمولی موضوع (مچھر) پر ہلکے پھلکے اور شگفتہ انداز میں لکھی گئی تحریر انشائیہ کہلاتی ہے۔
b) اقتباس میں کہانی یا پلاٹ نہیں، اس لیے یہ افسانہ یا ناول نہیں۔

 

(ii) اقتباس کس سبق سے لیا گیا ہے؟ [1 Mark]
(a) مچھر
(b) پودے
(c) خوجی ایک مطالعہ
(d) میں، وہ

Answer: (a) مچھر

Teacher's Note:
a) پورا اقتباس مچھر اور انسان کے مقابلے کے بارے میں ہے، اسی سے سبق کا نام پہچانیے۔
b) سبق کا نام لکھتے وقت املا صحیح رکھیے۔

 

(iii) اس کے مصنف کون ہیں؟ [1 Mark]
(a) منشی پریم چند
(b) کرشن چندر
(c) خواجہ حسن نظامی
(d) کنھیا لال کپور

Answer: (c) خواجہ حسن نظامی

Teacher's Note:
a) انشائیہ "مچھر" خواجہ حسن نظامی کا لکھا ہوا ہے۔
b) درسی اسباق کے ساتھ ان کے مصنفین کے نام یاد رکھیے۔

 

(iv) انسان طرح طرح کے مسالے کیوں بناتا ہے؟ [1 Mark]
(a) تاکہ انسان کمزور ہو جائے
(b) تاکہ انسان مضبوط ہو جائے
(c) تاکہ مچھر بھاگ جائیں
(d) تاکہ مچھر مر جائیں

Answer: (c) تاکہ مچھر بھاگ جائیں

Teacher's Note:
a) اقتباس میں لکھا ہے کہ مسالے اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ ان کی بو سے مچھر بھاگ جائیں۔
b) "مر جائیں" اقتباس میں نہیں، اس لیے (d) غلط ہے۔

 

(v) مچھر انسانوں کے پاس رہنے والے جانوروں کو کیوں تکلیف پہنچاتا ہے؟ [1 Mark]
(a) دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے
(b) دشمن کا دوست بھی دوست ہوتا ہے
(c) دوست کا دشمن بھی دوست ہوتا ہے
(d) دشمن کا دشمن بھی دشمن ہوتا ہے

Answer: (a) دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے

Teacher's Note:
a) اقتباس کے مطابق مچھر جانتا ہے کہ دشمن کے دوست بھی دشمن ہوتے ہیں۔
b) چاروں آپشن ملتے جلتے ہیں، اس لیے ہر لفظ غور سے پڑھ کر جواب چنیے۔

 

3. درج ذیل سوالات میں سے صرف ایک سوال کا جواب لکھیے۔ (1x5=5) [5 Marks]

 

(i) افسانہ کی تعریف کیجیے اس کے اجزائے ترکیبی لکھیے۔ [5 Marks]

Answer:
1. تعریف: مختلف ماہرین نے افسانے کی جو تعریفیں کی ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ افسانہ ایک بیانیہ تخلیقی تحریر ہے۔
2. افسانے میں کسی ایک کردار یا کرداروں کے ایک مخصوص گروہ کے نقوش یا ذہنی کشمکش کو نمایاں کیا جاتا ہے۔
3. افسانے میں واقعات کی تفصیل، کرداروں کی گفتگو اور منظر و ماحول کی پیشکش بہت نپی تلی ہوتی ہے۔
4. اجزائے ترکیبی: پلاٹ، کردار اور زمان و مکان افسانے کے لازمی اجزا کی حیثیت رکھتے ہیں۔
5. افسانے کی کامیابی کے لیے افسانہ نگار کے نقطۂ نظر کو بھی بہت اہم مانا جاتا ہے، اور افسانہ نگار کے اسلوب میں رمز، کنایے اور تاثیر کو بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔

Teacher's Note:
a) جواب کے دو حصے ہیں: پہلے تعریف، پھر اجزائے ترکیبی۔ دونوں الگ الگ لکھیے۔
b) اجزا میں پلاٹ، کردار، زمان و مکان، نقطۂ نظر اور اسلوب کے نام ضرور آئیں۔
c) "بیانیہ تخلیقی تحریر" اور "ذہنی کشمکش" جیسے کلیدی الفاظ استعمال کیجیے۔

 

(ii) مرزا غالؔب کے خطوط کی خصوصیات لکھیے۔ [5 Marks]

Answer:
شامل نصاب خط کی روشنی میں مرزا غالب کے خطوط کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
1. مرزا غالب نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا۔
2. انہوں نے لمبے چوڑے القاب و آداب کے استعمال کو ترک کیا۔
3. غالب کے خطوط تاریخی دستاویزات ہیں۔
4. ان خطوط میں واقعہ نگاری، منظر نگاری، جذبات نگاری، سادگی، صداقت، شوخی و ظرافت، طنز و مزاح، بے تکلفی، محبت و خلوص، رحم دلی اور سخاوت کی جھلک ملتی ہے۔
5. غائب کو حاضر بنانے کا ان کا ایک نرالا طریقہ ہے، اور غالب اپنے خطوط میں غیر ضروری باتیں نہیں لکھتے۔

Teacher's Note:
a) سب سے اہم نکتہ "مراسلے کو مکالمہ بنا دیا" ہے، اسے سب سے پہلے لکھیے۔
b) القاب و آداب ترک کرنا اور خطوط کا تاریخی دستاویز ہونا بھی ضرور لکھیے۔
c) پانچ نمبر کے لیے کم از کم پانچ واضح خصوصیات الگ الگ نکات میں لکھیے۔

 

4. مندرجہ ذیل سوالات میں سے صرف دو سوالوں کے جواب لکھیے۔ (2x2.5=5) [5 Marks]

 

(i) احمد جمال پاشا نے اپنے خاکے میں کلیم الدین احمد کی کن نمایاں خصوصیات کو بیان کیا ہے؟ [2.5 Marks]

Answer:
1. احمد جمال پاشا کے مطابق کلیم الدین احمد ایک صاف گو، اصول پسند، دیانت دار اور سنجیدہ نقاد تھے۔
2. وہ حق بات کہنے سے نہیں جھجکتے تھے اور کسی کی خوشامد یا ناراضی کی پروا نہیں کرتے تھے۔
3. ان کی شخصیت میں وقار، تہذیب، علمیت اور سنجیدگی نمایاں تھی۔

Teacher's Note:
a) صاف گوئی، اصول پسندی اور دیانت داری کلیدی الفاظ ہیں۔
b) شخصیت کی خوبیاں (وقار، تہذیب، علمیت) بھی ضرور لکھیے۔

 

(ii) سجاد ظہیر نے سبق "روشنائی" میں ادب کی سماجی ذمہ داری کو کس طرح واضح کیا ہے؟ [2.5 Marks]

Answer:
1. سجاد ظہیر کے مطابق ادب سماج سے کٹا ہوا فن نہیں بلکہ زندگی کے حقیقی مسائل کا عکاس ہے۔
2. ادیب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائے، انسان کے دکھ درد کو بیان کرے اور سماج میں مثبت تبدیلی کے لیے فکری روشنی پیدا کرے۔
3. ان کے نزدیک ادب کا مقصد صرف جمالیاتی لطف دینا نہیں بلکہ معاشرتی شعور پیدا کرنا بھی ہے۔

Teacher's Note:
a) "ادب زندگی کا عکاس ہے" والا نکتہ جواب کی بنیاد ہے۔
b) ادیب کی ذمہ داری (ظلم کے خلاف آواز، مثبت تبدیلی) واضح طور پر لکھیے۔

 

(iii) سبق "روشنائی" میں سجاد ظہیر نے ترقی پسند ادیبوں کے ماحول کو کس طرح پیش کیا ہے؟ [2.5 Marks]

Answer:
1. سجاد ظہیر نے ترقی پسند ادیبوں کے ماحول کو دوستی، فکری بحث و مباحثہ، سماجی شعور اور جد و جہد کا سنگم قرار دیا ہے۔
2. انہوں نے بتایا کہ فیضؔ، مجازؔ، سردار جعفری اور دیگر رفقاء مل کر ایک ایسے ادبی حلقے میں سرگرم تھے جس کا مقصد سماجی انصاف، آزادیٔ اظہار اور انسان دوستی کے پیغام کو فروغ دینا تھا۔
3. ان یادوں سے ترقی پسند تحریک کی فکری بنیادیں اور حریت نمایاں ہوتی ہے۔

Teacher's Note:
a) دوستی، بحث و مباحثہ اور جد و جہد جیسے الفاظ ضرور لکھیے۔
b) فیض، مجاز اور سردار جعفری کے نام لکھنے سے جواب مضبوط ہوتا ہے۔

 

(iv) افسانہ "فوٹو گرافر" میں فوٹو گرافر کے کردار کے ذریعہ مصنفہ نے کون سا بنیادی احساس اجاگر کیا ہے؟ [2.5 Marks]

Answer:
1. فوٹو گرافر کے کردار کے ذریعہ مصنفہ نے یہ اجاگر کیا ہے کہ انسان کے چہرے کی ظاہری تصویر اصل نہیں ہوتی بلکہ اصل تصویر وہ جذبات اور دکھ ہوتے ہیں جو انسان کے دل میں چھپے ہوتے ہیں۔
2. فوٹو گرافر جب چہروں کو کیمرے میں قید کرتا ہے تو وہ ان کے اندر چھپے دکھ اور تنہائی کو محسوس کرتا ہے۔
3. اس طرح فوٹو گرافر انسان کے حقیقی تجربات کی نمائندگی کرتا ہے۔

Teacher's Note:
a) ظاہری تصویر اور دل میں چھپے جذبات کا فرق جواب کا مرکزی نکتہ ہے۔
b) "دکھ اور تنہائی" کے الفاظ ضرور لکھیے۔

 

5. درج ذیل شعری (غیر درسی) اقتباس کو غور سے پڑھیے اور اس سے متعلق سوالات کے معروضی جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔ (5x1=5) [5 Marks]

جینے کی ہر طرح سے تمنا حسین ہے
ہر شر کے باوجود یہ دنیا حسین ہے
دریا کی تند باڑھ بھیانک سہی مگر
طوفان سے کھیلتا ہوا تنکا حسین ہے
صحرا کا ہر سکوت ڈراتا ہے تو کیا
جنگل کو کاٹتا ہوا رستہ حسین ہے
دل کو دہلائے لاکھ گھٹاؤں کی گھن گرج
مٹی پہ جو گرا ہے وہ قطرہ حسین ہے
دہشت دلا رہی ہیں چٹانیں تو کیا
پتھر میں جو صنم ہے وہ کتنا حسین ہے

 

(i) کسی چیز کی تمنا حسین ہے؟ [1 Mark]
(a) مرنے کی
(b) جینے کی
(c) کھیلنے کی
(d) کھانے کی

Answer: (b) جینے کی

Teacher's Note:
a) جواب پہلے مصرعے "جینے کی ہر طرح سے تمنا حسین ہے" میں موجود ہے۔
b) پوری نظم زندگی کی خوبصورتی کے بارے میں ہے، اس سے بھی جواب کی تصدیق ہوتی ہے۔

 

(ii) دریا کی باڑھ کیسی ہے؟ [1 Mark]
(a) خاموش
(b) خوبصورت
(c) بھیانک
(d) سست

Answer: (c) بھیانک

Teacher's Note:
a) تیسرے مصرعے میں دریا کی تند باڑھ کو بھیانک کہا گیا ہے۔
b) "خوبصورت" تو تنکے کے لیے کہا گیا ہے، باڑھ کے لیے نہیں۔

 

(iii) صحرا کا سکوت کیا کرتا ہے؟ [1 Mark]
(a) ڈراتا ہے
(b) خوش کرتا ہے
(c) لبھاتا ہے
(d) سلاتا ہے

Answer: (a) ڈراتا ہے

Teacher's Note:
a) مصرع "صحرا کا ہر سکوت ڈراتا ہے تو کیا" میں جواب موجود ہے۔
b) سکوت کے معنی خاموشی ہیں۔

 

(iv) دل کس چیز سے دہل جاتا ہے؟ [1 Mark]
(a) بجلی کی گرج سے
(b) گھٹاؤں کی گھن گرج سے
(c) اندھیروں سے
(d) دہشت سے

Answer: (b) گھٹاؤں کی گھن گرج سے

Teacher's Note:
a) مصرع "دل کو دہلائے لاکھ گھٹاؤں کی گھن گرج" میں جواب ہے۔
b) بجلی کا ذکر نظم میں نہیں، اس لیے (a) سے بچیے۔

 

(v) جنگل کا راستہ کیسا ہے؟ [1 Mark]
(a) حسین ہے
(b) جمیل ہے
(c) خوبصورت ہے
(d) دلکش ہے

Answer: (a) حسین ہے

Teacher's Note:
a) شاعر نے "جنگل کو کاٹتا ہوا رستہ حسین ہے" کہا ہے۔
b) سب آپشن ہم معنی ہیں، اس لیے وہی لفظ چنیے جو شعر میں آیا ہے۔

یا

رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے
وہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہے
کرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی
جو ظرف کہ خالی ہے صدا دیتا ہے
دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی
ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی
جو آکے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا
جو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی

 

(i) اپنی تعریف کون لوگ کرتے ہیں؟ [1 Mark]
(a) عقل مند
(b) بہادر
(c) خالی دماغ
(d) امیر لوگ

Answer: (c) خالی دماغ

Teacher's Note:
a) "تہی مغز" کا مطلب خالی دماغ ہے، اور مصرع ہے "کرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی"۔
b) "ثنا" کے معنی تعریف ہیں۔

 

(ii) خدا دنیا میں کس کو رتبہ دیتا ہے؟ [1 Mark]
(a) جو دل میں فروتنی کو جگہ دیتا ہے
(b) جو بہادر ہوتا ہے
(c) جو عبادت گزار ہوتا ہے
(d) جو دولت والا ہوتا ہے

Answer: (a) جو دل میں فروتنی کو جگہ دیتا ہے

Teacher's Note:
a) پہلے دو مصرعوں میں یہی بات کہی گئی ہے۔
b) "فروتنی" کے معنی عاجزی اور انکساری ہیں۔

 

(iii) سرائے فانی کس کو کہا گیا ہے؟ [1 Mark]
(a) انسانوں کو
(b) اسکولوں کو
(c) دنیا کو
(d) جانوروں کو

Answer: (c) دنیا کو

Teacher's Note:
a) مصرع "دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی" میں دنیا کو سرائے فانی کہا گیا ہے۔
b) سرائے وہ جگہ ہے جہاں مسافر تھوڑی دیر ٹھہرتے ہیں۔

 

(iv) فانی کے کیا معنی ہیں؟ [1 Mark]
(a) ہمیشہ رہنے والا
(b) ختم ہونے والا
(c) سکون دینے والا
(d) تکلیف دینے والا

Answer: (b) ختم ہونے والا

Teacher's Note:
a) "فانی" کا مطلب ہے مٹ جانے یا ختم ہونے والا۔
b) "ہمیشہ رہنے والا" اس کا الٹا (باقی) ہے، اس سے بچیے۔

 

(v) شاعر کے مطابق کون سی چیز جانے کے بعد دوبارہ لوٹ کر نہیں آتی؟ [1 Mark]
(a) بڑھاپا
(b) وقت
(c) جوانی
(d) بچپن

Answer: (c) جوانی

Teacher's Note:
a) آخری مصرع "جو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی" میں جواب ہے۔
b) بڑھاپا وہ ہے جو آ کر نہیں جاتا، اسے جوانی سے نہ ملائیے۔

 

6. مندرجہ ذیل درسی شعری اقتباس کو غور سے پڑھئے اور اس سے متعلق سوالات کے متبادل جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجئے۔ (5x1=5) [5 Marks]

اب بھاگتے ہیں سایۂ عشق بتاں سے ہم
کچھ دل سے ہیں ڈرے ہوئے کچھ آسمان سے ہم
خود رفتگی شب کا مزہ بھولتا نہیں
آئے ہیں آج آپ میں یا رب کہاں سے ہم
اب شوق سے بگاڑ کی باتیں کیا کرو
کچھ پا گئے ہیں آپ کی طرز بیاں سے ہم
دلکش ہر ایک قطعۂ صحراء ہے راہ میں
ملتے ہیں جاکے دیکھئے کب کارواں سے ہم
لذت ترے کلام میں آئی کہاں سے یہ
پوچھیں گے جاکے حالؔی جادو بیاں سے ہم

 

(i) درج بالا اشعار کا تعلق شاعری کی کس صنف سے ہے؟ [1 Mark]
(a) مرثیہ
(b) قصیدہ
(c) غزل
(d) مثنوی

Answer: (c) غزل

Teacher's Note:
a) پہلے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہیں اور ہر شعر "سے ہم" پر ختم ہوتا ہے، یہ غزل کی پہچان ہے۔
b) آخری شعر میں شاعر کا تخلص "حالی" آیا ہے، یعنی یہ مقطع ہے۔

 

(ii) اشعار کا تعلق کس شاعر سے ہے؟ [1 Mark]
(a) حالؔی
(b) غالؔب
(c) ناصر کاظمی
(d) جذبؔی

Answer: (a) حالؔی

Teacher's Note:
a) مقطع میں شاعر کا تخلص "حالی" موجود ہے۔
b) غزل میں شاعر پہچاننے کے لیے مقطع کا تخلص دیکھیے۔

 

(iii) تیسرے شعر میں شوق سے مراد کیا ہے؟ [1 Mark]
(a) دلچسپی
(b) محبوب
(c) عاشق
(d) شاعر

Answer: (b) محبوب

Teacher's Note:
a) تیسرے شعر میں شاعر محبوب سے مخاطب ہے، اس لیے یہاں شوق سے مراد محبوب ہے۔
b) "دلچسپی" لفظ کا عام معنی ہے، مگر سوال شعر کے سیاق میں مراد پوچھ رہا ہے۔

 

(iv) صحرا کسی کو کب دلکش لگتا ہے؟ [1 Mark]
(a) جب محبوب کا قافلہ گزرے
(b) جب سفر کرے
(c) جب خوشی میں ہو
(d) جب غم کی حالت میں ہو

Answer: (a) جب محبوب کا قافلہ گزرے

Teacher's Note:
a) چوتھے شعر میں صحرا کا ہر قطعہ اس لیے دلکش ہے کہ شاعر کو کارواں سے ملنے کی امید ہے۔
b) مارکنگ اسکیم میں یہ جواب "جب محبوب کا قافلہ ادھر سے گزرے" کے الفاظ میں دیا گیا ہے۔

 

(v) "کلام" کے کیا معنی ہیں؟ [1 Mark]
(a) چال
(b) ادا
(c) بات
(d) خیال

Answer: (c) بات

Teacher's Note:
a) "کلام" کا مطلب بات یا گفتگو ہے۔
b) شاعری کے مجموعے کو بھی کلام کہتے ہیں، لیکن آپشن میں "بات" ہی صحیح ہے۔

یا

کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ
ایامِ جدائی کے ستم دیکھ، جفا دیکھ
بیتاب نہ ہو، معرکۂ بیم و رجا دیکھ
ہیں تیرے تصرف میں یہ بادل یہ گھٹائیں
یہ گنبد افلاک، یہ خاموش فضائیں
یہ کوہ، یہ صحرا، یہ سمندر، یہ ہوائیں
تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں
آئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ

 

(i) درج بالا اقتباس کس سبق سے لیا گیا ہے؟ [1 Mark]
(a) گورِ غریباں
(b) روحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے
(c) زندگی سے ڈرتے ہو
(d) ارتقاء

Answer: (b) روحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے

Teacher's Note:
a) نظم میں زمین کی روح انسان (آدم) سے مخاطب ہو کر اسے دنیا دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔
b) "زندگی سے ڈرتے ہو" ایک الگ درسی نظم ہے، اسے اس سے نہ ملائیے۔

 

(ii) اس کے شاعر کون ہیں؟ [1 Mark]
(a) علی حیدر نظم طباطبائی
(b) جمیل مظہری
(c) ن۔م۔راشد
(d) علامہ اقبال

Answer: (d) علامہ اقبال

Teacher's Note:
a) نظم "روحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے" علامہ اقبال کی ہے۔
b) درسی نظموں کے ساتھ ان کے شاعروں کے نام یاد رکھیے۔

 

(iii) یہ بادل یہ گھٹائیں کس کے تصرف میں ہیں؟ [1 Mark]
(a) تیرے
(b) میرے
(c) ان کے
(d) سب کے

Answer: (a) تیرے

Teacher's Note:
a) مصرع "ہیں تیرے تصرف میں یہ بادل یہ گھٹائیں" میں جواب ہے۔
b) "تصرف" کا مطلب اختیار یا قبضہ ہے۔

 

(iv) "افلاک" کا واحد کیا ہے؟ [1 Mark]
(a) فالک
(b) فلک
(c) فلوک
(d) افلک

Answer: (b) فلک

Teacher's Note:
a) "افلاک" جمع ہے اور اس کا واحد "فلک" (آسمان) ہے۔
b) نظم کے پہلے مصرعے میں بھی "فلک دیکھ" آیا ہے۔

 

(v) کس کی ادائیں پیش نظر تھیں؟ [1 Mark]
(a) انسانوں کی
(b) جنوں کی
(c) فرشتوں کی
(d) حوروں کی

Answer: (c) فرشتوں کی

Teacher's Note:
a) مصرع "تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں" میں جواب ہے۔
b) سوال میں "تھیں" (ماضی) کا لفظ اسی مصرعے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

 

7. مندرجہ ذیل میں سے صرف ایک سوال کا جواب لکھیے۔ (1x5=5) [5 Marks]

 

(i) معین احسن جذبؔی کی شاعری کی خصوصیات لکھیے۔ [5 Marks]

Answer:
1. معین احسن جذبی مبارک پور، اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ اردو کے استاد کی حیثیت سے وہ شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے۔ شاعری کا شوق بچپن سے تھا۔ ابتدائی دور میں تخلص "ملال" تھا، بعد میں "جذبی" اختیار کیا۔
2. جذبی ترقی پسند تحریک کے اہم غزل گو شمار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے نظمیں بھی کہیں لیکن ان کا امتیاز غزل کی صنف میں قائم ہوا۔
3. ان کی غزلوں میں دھیما پن ہے مگر وہ پُراثر ہیں۔ ان کا جادو ذرا دیر سے چڑھتا ہے مگر جب چڑھتا ہے تو پھر منہ سے بولتا ہے۔
4. ان کی آواز میں نغمگی، ترنم اور درد و کسک ہے۔ انداز بیان میں سنجیدگی، وزن اور وقار ہے۔ وہ فنکارانہ انداز سے اپنی بات اس طرح کہتے ہیں کہ سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔
5. فکر و نظر کی گہرائی اور زبان و بیان کی فنکاری نے ان کی غزلوں میں چار چاند لگا دیے ہیں۔ ان کے شعری مجموعے "فروزاں"، "سخنِ مختصر" اور "گدازِ شب" ہیں۔ انہیں اقبال سمان اور غالب ایوارڈ پیش کیا گیا۔

Teacher's Note:
a) سوال شاعری کی خصوصیات کا ہے، اس لیے مختصر تعارف کے بعد زیادہ زور غزل کی خصوصیات پر دیجیے۔
b) دھیما پن، نغمگی، ترنم، درد و کسک اور سنجیدگی جیسے کلیدی الفاظ ضرور لکھیے۔
c) تینوں شعری مجموعوں کے نام صحیح املا کے ساتھ لکھیے۔

 

(ii) ’’غزل‘‘ کی تعریف بیان کیجیے اور اس کی خصوصیات لکھیے۔ [5 Marks]

Answer:
1. غزل کے لغوی معنی "عورتوں سے باتیں کرنا یا عورتوں کی باتیں کرنا" ہیں۔
2. عرب شعرا جب اپنی معشوقاؤں کا سراپا یا ان کے حسن کی تعریف کرتے یا ان سے محبت کا اظہار کرتے تو اس عمل کو "تغزل" اور ایسے اشعار کو "غزل" کہتے تھے۔
3. عربی سے غزل فارسی میں آئی اور فارسی ادب سے اردو میں آئی۔ یہ اردو کی سب سے مقبول صنفِ سخن ہے۔ فارسی غزل کی طرح اردو غزل میں بھی مضامین و موضوعات کی کوئی قید نہیں ہے۔
4. غزل کا ہر شعر مکمل اکائی ہوتا ہے اور اس کے اندر اشاروں اور کنایوں میں بات کرنے کی خوب گنجائش ہوتی ہے۔
5. غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے جس کے دونوں مصرعے ہم ردیف و ہم قافیہ ہوتے ہیں، اور اس کا آخری شعر مقطع کہلاتا ہے جس میں شاعر اپنا تخلص بیان کرتا ہے۔

Teacher's Note:
a) پہلے لغوی معنی اور تعریف، پھر خصوصیات لکھیے۔
b) مطلع، مقطع، ردیف، قافیہ اور تخلص کی اصطلاحات ضرور استعمال کیجیے۔
c) "ہر شعر مکمل اکائی ہوتا ہے" غزل کی اہم خصوصیت ہے، اسے نہ چھوڑیے۔

 

8. درج ذیل سوالات میں سے صرف دو سوالوں کے جوابات لکھیے۔ (2x2.5=5) [5 Marks]

 

(i) شاعر انسان کو ’’زندگی سے ڈرتے ہو‘‘ کہہ کر کیا بات واضح کرنا چاہتا ہے؟ [2.5 Marks]

Answer:
1. شاعر یہ بتانا چاہتا ہے کہ انسان زندگی کے تجربات، مشکلات اور نئی راہوں سے خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
2. وہ خطرات مول نہیں لیتا اور نہ ہی زندگی کے حقیقی معنی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
3. شاعر کے مطابق زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ انسان ہمت کرے، آگے بڑھے اور مشکلات کا سامنا کرے۔

Teacher's Note:
a) جواب میں انسان کا خوف اور شاعر کا پیغام (ہمت اور آگے بڑھنا) دونوں آنے چاہئیں۔
b) "زندگی کا حسن" والا نکتہ آخر میں ضرور لکھیے۔

 

(ii) نظم ’’زندگی سے ڈرتے ہو‘‘ میں شاعر نے کس قسم کے انسانوں پر تنقید کی ہے؟ [2.5 Marks]

Answer:
1. شاعر نے ان انسانوں پر تنقید کی ہے جو سہولت، آرام اور محفوظ دائرے میں رہنا چاہتے ہیں۔
2. ایسے لوگ نئے تجربات، خطرات، تبدیلی اور سچائی کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔
3. شاعر کے مطابق یہ لوگ اس پرندے کی طرح ہیں جو پنجرے کی حفاظت تو چاہتے ہیں مگر آزادی نہیں، اس لیے وہ اڑان اور زندگی کی اصل وسعت سے محروم رہ جاتے ہیں۔

Teacher's Note:
a) "محفوظ دائرے میں رہنا" اور "تبدیلی سے گھبرانا" کلیدی نکات ہیں۔
b) پنجرے کے پرندے کی مثال لکھنے سے جواب مکمل ہوتا ہے۔

 

(iii) منزل نہ ملی تو قافلوں نے ۔ رستے میں جمالیے ہیں ڈیرے۔ اس شعر میں 'ڈیرے جما لینے' سے کیا مراد ہے؟ [2.5 Marks]

Answer:
1. رستے میں ڈیرے جما لینے کا مطلب ہے اپنی شکست کا اعتراف کر لینا۔
2. ہر انسان اپنی زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد طے کرتا ہے اور مستقبل میں کسی منزل تک پہنچنے کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر انسان اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے۔
3. ایسی صورت میں جو کچھ اسے مل جاتا ہے اسی پر وہ قناعت کر لیتا ہے۔ اسی قناعت اور اعترافِ شکست کو شاعر "رستے میں جما لیے ہیں ڈیرے" کہہ رہا ہے۔

Teacher's Note:
a) "اعترافِ شکست" اور "قناعت" اس جواب کے اہم الفاظ ہیں۔
b) منزل اور قافلے کو زندگی کے مقصد اور انسان سے جوڑ کر سمجھائیے۔

 

(iv) ہوگا افسرہ ستاروں میں کوئی نالۂ صبح
غنچہ و گل میں کہیں بادِ سحر بھی ہوگی
اس شعر میں افسردہ ستاروں میں نالۂ صبح کا کیا مطلب ہے؟ [2.5 Marks]

Answer:
1. افسردہ ستاروں میں نالۂ صبح ہونے کا مطلب ہے کہ رات کا آخری وقت ہے اور صبح ہونے کو ہے۔
2. ایسے میں کوئی عاشقِ نامراد شبِ ہجر میں آہ و فغاں میں مصروف ہے۔ وہ روتے روتے تھک جاتا ہے اور اس میں قوت باقی نہیں رہتی۔
3. صبح ہوتے ہی ستاروں کی روشنی کم ہو جاتی ہے، اسی لیے شاعر نے افسردہ ستاروں میں نالۂ صبح کا تعلق قائم کیا ہے۔

Teacher's Note:
a) "رات کا آخری وقت" اور "صبح کے وقت ستاروں کی روشنی کم ہونا" دونوں نکات لکھیے۔
b) "نالہ" کے معنی آہ و فریاد ہیں، اسے عاشق کی حالت سے جوڑیے۔

 

9. نرمل ورما کے حالات زندگی اور ادبی خدمات کا جائزہ لیجیے۔ (1x4=4) [4 Marks]

Answer:
1. نرمل ورما ہندی زبان کے منفرد فکشن نگار ہیں۔ وہ 3 اپریل 1929ء کو شملہ میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم وہیں پائی۔ اس کے بعد دہلی آ گئے جہاں دہلی یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم۔اے کیا اور کچھ عرصے تک تدریس کا کام بھی کیا۔
2. اس کے بعد وہ چیکوسلواکیہ چلے گئے اور سات سال تک وہیں رہے۔ اس دوران انہوں نے کئی چیک شاہکاروں کے ہندی ترجمے کیے۔ یورپ کے قیام کے دوران انہوں نے "ٹائمس آف انڈیا" کے لیے وہاں کے تہذیبی، ثقافتی اور سیاسی و سماجی مسائل پر کئی فکر انگیز مضامین اور رپورتاژ بھی لکھے۔
3. وہ ایک مثالی تخلیق کار ہیں۔ انہوں نے افسانے، ناول، ڈرامے، سفر نامہ اور ڈائری غرض کہ کئی صنفوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ "پرندے" ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے۔
4. نرمل ورما کو ان کی ادبی خدمات پر ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ، سادھنا سمان، رام منوہر لوہیا سمان اور مورتی دیوی ایوارڈ جیسے متعدد انعامات و اعزازات سے نوازا گیا۔ 2001ء میں حکومتِ ہند نے انہیں پدم بھوشن کے اعزاز سے سرفراز کیا۔ ان کا انتقال دہلی میں ہوا۔

Teacher's Note:
a) حالاتِ زندگی (پیدائش، تعلیم، قیامِ یورپ) اور ادبی خدمات (اصناف، تصانیف، اعزازات) دونوں حصے لکھیے۔
b) تاریخِ پیدائش، پہلا افسانوی مجموعہ "پرندے" اور پدم بھوشن (2001ء) جیسے حقائق صحیح لکھیے۔
c) چار نمبر کے لیے کم از کم چار واضح نکات ضروری ہیں۔

یا

افسانہ "جنم دن" کا خلاصہ تحریر کیجیے۔ [4 Marks]

Answer:
1. افسانہ "جنم دن" اپنے ایک مرکزی کردار کے گرد گھومتا ہے جو انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ افسانہ خود کلامی کے انداز میں لکھا گیا ہے اور کردار ایک مصنف کا ہے جو کرائے کے انتہائی چھوٹے کمرے میں رہ رہا ہے۔ اس کا مالک مکان اسے سخت ناپسند کرتا ہے کیوں کہ وہ وقت پر کرایہ نہیں دیتا۔
2. وہ اپنے جنم دن والے دن صبح صبح تیار ہو کر پارک میں بیٹھ جاتا ہے تاکہ آج کا دن اچھا گزرے، اور آج کے دن وہ قرض نہیں لینا چاہتا۔ اسے چائے کی شدید طلب لگتی ہے لیکن اس کے پاس پیسے نہیں کہ وہ چائے پی لے۔ جب اسے دوست کی طرف سے دوپہر کو کھانے کی دعوت ملتی ہے تو بہت خوش ہو جاتا ہے، لیکن وہاں جانے کے بعد اس سے ملاقات نہیں ہوتی۔
3. اب وہ بھوک سے نڈھال، بے حس و حرکت اپنے کرائے کے کمرے تک پہنچتا ہے۔ اس کی حالت کو دیکھ کر ایک ملازم لڑکا اسے دو آنے دیتا ہے۔ اس میں ایک آنے کا وہ ڈوسہ اور چائے لیتا ہے، باقی ایک آنہ بھوک ہڑتال والوں کو دے دیتا ہے۔
4. رات کے وقت بھوک کی شدت سے وہ اپنے پڑوسی میتھیو کے گھر سے کھانا چرا کر کھاتا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد وہ اس خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس کی چوری نہ پکڑی جائے ورنہ وہ لوگوں کی نظروں سے گر جائے گا، لیکن کسی کو اس کا پتہ نہیں چلتا اور اس کا بھرم باقی رہ جاتا ہے۔

Teacher's Note:
a) خلاصہ واقعات کی ترتیب سے لکھیے: صبح پارک، دوست کی دعوت، دو آنے، رات کی چوری۔
b) مرکزی کردار کی غربت اور اس کی خودداری (بھرم) کو واضح کیجیے۔
c) خلاصہ اپنے الفاظ میں اور مختصر رکھیے، غیر ضروری تفصیل سے بچیے۔

 

10. مندرجہ ذیل میں سے دو سوالوں کے جواب لکھیے۔ (2x3=6) [6 Marks]

 

(i) افسانہ ’’کلرک کی موت‘‘ میں بری ژالوف اور چیرویا کوف کے رویے میں کیا فرق پایا جاتا ہے؟ [3 Marks]

Answer:
1. بری ژالوف ایک اعلیٰ افسر ہے جو شروع میں معاملے کو معمولی سمجھ کر ہنسی میں اڑا دیتا ہے اور کہتا ہے "کوئی بات نہیں"، لیکن جب چیرویا کوف بار بار معافی مانگتا ہے تو وہ جھنجھلا کر ڈانٹ دیتا ہے۔ اس کا رویہ رعب اور برتری پر مبنی ہے۔
2. چیرویا کوف ایک کمزور دل، ڈرپوک اور احساسِ کمتری کا شکار شخص ہے۔ وہ چھوٹے سے مسئلے کو ایک بڑا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ اس کے اندر بہت زیادہ بے اعتمادی ہے اور ذہنی کمزوری اتنی زیادہ ہے کہ معمولی سی بات پر بار بار معافی مانگ کر اپنا ہی نقصان کر لیتا ہے۔
3. چیرویا کوف کی موت کی اصل وجہ اس کی حد سے بڑھی ہوئی احساسِ کمتری، ڈرپوک فطرت اور اعلیٰ افسر بری ژالوف کے ڈر میں بے جا مبتلا ہونا ہے۔

Teacher's Note:
a) دونوں کرداروں کا الگ الگ ذکر کیجیے: افسر کا رعب اور کلرک کا احساسِ کمتری۔
b) "کوئی بات نہیں" سے "ڈانٹ" تک افسر کے رویے کی تبدیلی واضح کیجیے۔

 

(ii) افسانہ ’’کلرک کی موت‘‘ میں چیرویا کوف کی موت کی اصل وجہ کیا تھی؟ وضاحت کریں۔ [3 Marks]

Answer:
1. تھیٹر میں چھینک کر ایک معمولی سی غلطی پر چیرویا کوف بار بار معافی مانگتا رہا، حالاں کہ افسر نے اسے شروع میں معاف بھی کر دیا تھا۔
2. لیکن اس کی گھبراہٹ اور خود کو مجرم سمجھنے کی کیفیت نے اسے ذہنی طور پر توڑ دیا تھا۔
3. اس طرح اس کی موت کی اصل وجہ اس کی حد سے بڑھی ہوئی احساسِ کمتری، ڈرپوک فطرت اور اعلیٰ افسر بری ژالوف کے ڈر میں بے جا مبتلا ہونا ہے۔

Teacher's Note:
a) چھینک کا واقعہ، بار بار معافی اور ذہنی طور پر ٹوٹ جانا، یہ تینوں نکات ترتیب سے لکھیے۔
b) موت کی وجہ جسمانی نہیں بلکہ ذہنی خوف ہے، اسے واضح کیجیے۔

 

(iii) افسانہ ’’جلتی جھاڑی‘‘ میں ’جلتی جھاڑی‘ کس چیز کی علامت ہے؟ [3 Marks]

Answer:
1. افسانے میں "جلتی جھاڑی" کو انسانی دکھ، بے چینی، تلاش اور امید کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ مرکزی کردار اپنی داخلی کیفیت اور ماضی کے زخموں کو اس جھاڑی میں دیکھتا ہے۔
2. جھاڑی کبھی تیز بھڑکتی آگ کی طرح دکھائی دیتی ہے اور کبھی بجھی روشنی کی طرح، جس سے کردار کی بدلتی ہوئی ذہنی کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔
3. یہ جھاڑی زندگی کی اس جد و جہد کی علامت ہے جو انسان کو درد کے باوجود آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔

Teacher's Note:
a) دکھ، بے چینی، تلاش اور امید، چاروں الفاظ جواب میں آنے چاہئیں۔
b) علامت کو کردار کی ذہنی کیفیت سے جوڑ کر سمجھائیے۔

 

(iv) افسانہ ’’جلتی جھاڑی‘‘ میں مرکزی کردار کے احساسات اور جذبات کس طرح اس کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں؟ [3 Marks]

Answer:
1. کردار کے اندر تنہائی ہے، بے چینی ہے، ادھورے پن اور ماضی کی یادوں کا بوجھ ہے، جس کی وجہ سے اس کی سوچ، رویہ اور روزمرہ کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔
2. جلتی جھاڑی اس کے اندر جلتے ہوئے احساسات کی علامت ہے۔
3. یوں کردار کے شدید جذبات اور اندرونی جلن اس کی زندگی کو نہ صرف ذہنی طور پر کمزور کرتے ہیں بلکہ اسے ایک ایسی کیفیت میں ڈال دیتے ہیں جہاں امید اور ناامیدی دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

Teacher's Note:
a) تنہائی، بے چینی اور ماضی کی یادوں کا بوجھ کلیدی نکات ہیں۔
b) آخر میں "امید اور ناامیدی ساتھ ساتھ" والا نتیجہ ضرور لکھیے۔

 

Section B (حصہ ب) اردو ادب کی تاریخ

 

11. درج ذیل سوالات میں سے صرف تین سوالات کے جوابات لکھیے۔ (3x5=15) [15 Marks]

 

(i) فورٹ ولیم کالج اور میر امّن پر ایک مضمون لکھیے۔ [5 Marks]

Answer:
1. فورٹ ولیم کالج (کلکتہ) 1800ء میں قائم ہوا اور اردو نثر کی ترقی میں اس ادارے نے بنیادی کردار ادا کیا۔
2. کالج میں ہندوستانی زبانوں کی باقاعدہ تعلیم و تدریس کا آغاز ہوا۔ مختلف زبانوں کی کتابوں کا ترجمہ کیا گیا اور نئے اسلوبِ نثر کو فروغ ملا۔
3. اردو نثر کو سادگی، روانی اور عام فہم انداز دینے میں میر امّن دہلوی کا حصہ نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کالج کے لیے اپنی مشہور تصنیف "باغ و بہار" لکھی، جو اردو نثر کا سنگِ میل سمجھی جاتی ہے۔
4. میر امّن نے دہلی کی خالص زبان، محاوروں اور روزمرہ کے استعمال کو بنیاد بنا کر ایک ایسا اسلوب اختراع کیا جو بعد میں جدید اردو نثر کی بنیاد ثابت ہوا۔
5. یوں فورٹ ولیم کالج اور میر امّن کا باہمی تعلق اردو نثر کی اصلاح، ترقی اور معیار کے قیام میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

Teacher's Note:
a) کالج کا قیام (1800ء، کلکتہ) اور "باغ و بہار" کا ذکر لازمی ہے۔
b) میر امّن کے اسلوب کی خصوصیات (سادگی، روانی، دہلی کی زبان اور محاورے) ضرور لکھیے۔
c) مضمون کو کالج، میر امّن اور دونوں کے تعلق کے تین حصوں میں ترتیب دیجیے۔

 

(ii) اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کی اہمیت پر مختصر نوٹ لکھیے۔ [5 Marks]

Answer:
1. ترقی پسند تحریک نے ادب کو محض تفریح یا لفظی کھیل سے نکال کر زندگی، انسانی مسائل اور سماجی حقیقتوں سے جوڑا۔
2. اس تحریک نے ادیب کو ذمہ دار بنایا کہ وہ ظلم، استحصال، غربت، جہالت، اصناف کلیہ کی محرومی، طبقاتی تفاوت اور ناانصافی جیسے موضوعات کو اپنے فن میں جگہ دے۔
3. ترقی پسند ادیبوں نے ادب کو انسان دوستی، مساوات، حریتِ فکر، معاشرتی انصاف اور حقیقت نگاری کا پیغام دینے کا مؤثر ذریعہ بنایا۔
4. اس کے ذریعے ادب میں مصنوعی رومان، لفاظی اور غیر حقیقی موضوعات کی جگہ زمین سے جڑے ہوئے کردار، مزدور، کسان، عورت اور دبے ہوئے طبقے نمایاں ہوئے۔ ترقی پسند تحریروں نے زبان کو سادہ، مؤثر اور عام فہم بنایا تاکہ پیغام عام لوگوں تک پہنچ سکے۔
5. یوں ترقی پسند ادب نے معاشرے میں بیداری، شعور، انقلابِ فکر اور سماجی تبدیلی کے عمل کو مضبوط کیا اور ادب کو ایک فعال سماجی قوت کی حیثیت دی۔

Teacher's Note:
a) "ادب کو زندگی اور سماجی حقیقتوں سے جوڑا" اس جواب کا مرکزی نکتہ ہے۔
b) مزدور، کسان اور عورت جیسے نئے کرداروں اور سادہ زبان کا ذکر ضرور کیجیے۔
c) آخر میں تحریک کے اثرات (بیداری، شعور، سماجی تبدیلی) لکھ کر نوٹ مکمل کیجیے۔

 

(iii) رسالہ "تہذیب الاخلاق" کی سرسید تحریک میں کیا اہمیت ہے؟ [5 Marks]

Answer:
1. سرسید احمد خان نے 1870ء میں رسالہ "تہذیب الاخلاق" جاری کیا جو سرسید تحریک کا مرکزی اور سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔
2. اس رسالے کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں میں تعلیم، تہذیب، سماجی اصلاح اور جدید فکری شعور پیدا کرنا تھا۔
3. اس کے ذریعے سرسید نے مسلمانوں کو تعصب، جہالت اور قدامت پرستی سے نکال کر علم، عقل، سائنسی سوچ، اخلاقی تربیت اور قومی بیداری کی طرف مائل کیا۔
4. تہذیب الاخلاق نے نئی نسل میں انگریزی تعلیم کی اہمیت، خواتین کی تعلیم، سماجی برائیوں کے خاتمے، آپسی اتحاد اور مذہبی رواداری جیسے موضوعات کو فروغ دیا۔ اس رسالے نے مسلمانوں میں ایک ایسی فکری فضا پیدا کی جس سے آگے چل کر جدید اردو نثر، صحافت اور اصلاحی ادب کو زبردست ترقی ملی۔
5. یوں رسالہ تہذیب الاخلاق نہ صرف سرسید تحریک کا ترجمان تھا بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی فکری، سماجی اور تعلیمی بیداری کا بنیاد ساز محرک بھی ثابت ہوا۔

Teacher's Note:
a) رسالے کے اجرا کا سال (1870ء) اور بانی (سرسید احمد خان) ضرور لکھیے۔
b) رسالے کے مقاصد اور اس کے اثرات (اردو نثر، صحافت، اصلاحی ادب) دونوں بیان کیجیے۔
c) "سرسید تحریک کا ترجمان" جیسے الفاظ سے جواب ختم کیجیے۔

 

(iv) اردو زبان کے آغاز کے مختلف نظریات میں سے تین نظریات قلم بند کیجئے۔ [5 Marks]

Answer:
1. محمود شیرانی کا نظریہ: محمود شیرانی نے اپنی کتاب "پنجاب میں اردو" میں یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اردو کی داغ بیل پنجاب کے علاقے میں پڑی ہے۔
2. ان کے مطابق اردو دہلی کی قدیم زبان نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دہلی جاتی ہے، اور چوں کہ مسلمان پنجاب سے ہجرت کر کے جاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ وہ پنجاب سے کوئی زبان اپنے ساتھ لے گئے ہوں گے۔
3. مسعود حسین خان کا نظریہ: مسعود حسین خان نے سرزمینِ دہلی اور اس کے گرد و نواح کو اردو کی جائے پیدائش قرار دیا ہے۔
4. ڈاکٹر گیان چند جین کا نظریہ: ڈاکٹر گیان چند جین نے کھڑی بولی کو اردو کی اصل قرار دیا ہے۔
5. ان مختلف نظریات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماہرین نے اردو کے آغاز کو الگ الگ علاقوں اور بولیوں سے جوڑا ہے۔

Teacher's Note:
a) ہر نظریے کے ساتھ ماہر کا نام ضرور لکھیے: محمود شیرانی، مسعود حسین خان اور گیان چند جین۔
b) محمود شیرانی کی کتاب "پنجاب میں اردو" کا نام لکھنے سے جواب مضبوط ہوتا ہے۔
c) تینوں نظریات کو الگ الگ عنوان کے ساتھ لکھیے تاکہ ممتحن آسانی سے پہچان سکے۔

 

(v) دبستان دہلی و دبستان لکھنؤ کے امتیازی خصوصیات لکھیے۔ [5 Marks]

Answer:
دبستانِ دہلی کے امتیازات:
1. دہلی کی شاعری میں جذبہ داخلی نوعیت کا اور عشق کا تصور اعلیٰ و ارفع ہے۔ تصوف نے دہلی کی شاعری میں عمودی جہت پیدا کی، چنانچہ دہلی کا شاعر اس شمع کی طرح تھا جو آہستہ آہستہ جلتی اور اپنے آنسوؤں میں نہاتی ہے۔ تغزل میں مضامینِ عشق کو اہمیت حاصل ہے لیکن زیادہ جلوے حقیقت کے ہیں جو روح کو جھنجھوڑ ڈالتے ہیں۔
2. دہلی کی سادہ زبان داخلی طور پر توانا اور جذبے کے تحرک سے آشنا ہے۔ اس کی سادگی میں جاذبیت اور صفائی میں روانی ہے۔ دبستانِ دہلی کے شعرا کے یہاں جذبات حقیقی ہوتے ہیں اس لیے سوز و گداز کافی ہوتا ہے، اور ان کے یہاں وصال سے زیادہ ہجر کی طلب نظر آتی ہے۔
دبستانِ لکھنؤ کے امتیازات:
3. لکھنؤ میں ایسا ادب پروان چڑھا جس میں تازہ اور جوان جسم کی دل کشی، رعنائی اور جنسی کشش کو اہمیت حاصل تھی۔ شعرا زندگی کے حقائق اور مسائل کو نظر انداز کر کے لفظوں کو اس طرح آراستہ کرتے کہ کیف و نشاط کی بارش ہونے لگتی۔
4. غزل کے ساتھ ساتھ مثنوی، قصیدہ، ہجو، ریختی، واسوخت، ڈراما اور داستان کو فروغ حاصل ہوا۔ شاہانِ اودھ کے مذہبی معتقدات کے مطابق مرثیہ کو عروج حاصل ہوا۔
5. گرد و پیش میں پھیلی ہوئی دنیا پورے حسن و جمال کے ساتھ ادب و شعر میں جلوہ گر ہونے لگی، لیکن اندر کی کائنات سے روشنی کا ماخذ بند ہو گیا اور ادب میں ابتذال راہ پا گیا۔ دبستانِ لکھنؤ کے شعرا نے جذبات سے زیادہ الفاظ کی نوک پلک سنوارنے اور زبان میں لطافت پیدا کرنے پر زور دیا، اس لیے ان کے یہاں معاملہ بندی اور مبالغہ آرائی زیادہ نظر آتی ہے۔

Teacher's Note:
a) دونوں دبستانوں کو الگ الگ عنوان کے تحت لکھیے اور ان کا فرق واضح کیجیے۔
b) دہلی کے لیے داخلیت، تصوف، سادگی اور سوز و گداز، اور لکھنؤ کے لیے خارجیت، لفظی آرائش، معاملہ بندی اور مرثیہ کا عروج کلیدی نکات ہیں۔
c) صرف ایک دبستان پر لکھنے سے پورے نمبر نہیں ملتے۔

 

12. مندرجہ ذیل سوالات کے متبادل جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کیجیے۔ (5x1=5) [5 Marks]

 

(i) جدید اردو نظم کا بانی کسے مانا جاتا ہے؟ [1 Mark]
(a) اختر الایمان
(b) اسماعیل میرٹھی
(c) مولانا الطاف حسین حالؔی
(d) اکبر الہ آبادی

Answer: (c) مولانا الطاف حسین حالؔی

Teacher's Note:
a) مارکنگ اسکیم کے مطابق مولانا الطاف حسین حالی جدید اردو نظم کے بانی مانے جاتے ہیں۔
b) اختر الایمان بعد کے دور کے شاعر ہیں، اس لیے وہ بانی نہیں۔

 

(ii) "فورٹ ولیم کالج" کے شعبہ اردو کا پہلا صدر کون تھا؟ [1 Mark]
(a) لارڈ ویلزلی
(b) ڈاکٹر جان گلکرسٹ
(c) لارڈ کلائیو
(d) ولیم بینٹک

Answer: (b) ڈاکٹر جان گلکرسٹ

Teacher's Note:
a) ڈاکٹر جان گلکرسٹ فورٹ ولیم کالج کے شعبۂ اردو کے پہلے صدر تھے۔
b) باقی آپشن انگریز حکمرانوں کے نام ہیں، ادبی شخصیات نہیں۔

 

(iii) ترقی پسند تحریک کی پہلی کانفرنس کی صدارت کس نے کی؟ [1 Mark]
(a) سجاد ظہیر
(b) جیوتی گھوش
(c) منشی پریم چند
(d) ڈاکٹر محمد دین تاثیر

Answer: (c) منشی پریم چند

Teacher's Note:
a) ترقی پسند تحریک کی پہلی کانفرنس کی صدارت منشی پریم چند نے کی۔
b) سجاد ظہیر تحریک کے بانیوں میں ہیں، صدارت کا سوال ان سے نہ ملائیے۔

 

(iv) رسالہ "تہذیب الاخلاق" کس نے جاری کیا؟ [1 Mark]
(a) الطاف حسین حالؔی
(b) علامہ شبلی نعمانی
(c) محمد حسین آزاد
(d) سر سید احمد خان

Answer: (d) سر سید احمد خان

Teacher's Note:
a) سرسید احمد خان نے 1870ء میں یہ رسالہ جاری کیا۔
b) حالی اور شبلی سرسید کے رفقاء تھے، مگر رسالہ سرسید نے جاری کیا۔

 

(v) تنقیدی مضمون "خوجی ایک مطالعہ" کے مصنف کون ہیں؟ [1 Mark]
(a) مرزا غالؔب
(b) ذاکر حسین
(c) علامہ شبلی نعمانی
(d) احتشام حسین

Answer: (d) احتشام حسین

Teacher's Note:
a) "خوجی ایک مطالعہ" احتشام حسین کا تنقیدی مضمون ہے۔
b) درسی اسباق کے ساتھ ان کے مصنفین کے نام یاد رکھیے۔

 

Section C (حصہ ج) صنائع و بدائع

 

13. مندرجہ ذیل میں سے صرف پانچ سوالوں کے جوابات لکھیے۔ (5x2=10) [10 Marks]

 

(i) اب بھاگتے ہیں سایۂ عشق بتاں سے ہم
کچھ دل سے ہیں ڈرے ہوئے کچھ آسمان سے ہم
مندرجہ بالا شعر میں ردیف اور قافیہ کی نشاندہی کیجیے۔ [2 Marks]

Answer:
ردیف: سے ہم
قافیہ: بتاں اور آسماں

Teacher's Note:
a) ردیف وہ الفاظ ہیں جو دونوں مصرعوں کے آخر میں بالکل یکساں دہرائے جائیں، یعنی "سے ہم"۔
b) قافیہ ردیف سے پہلے آنے والے ہم آواز الفاظ ہیں، یعنی "بتاں" اور "آسماں"۔

 

(ii) اول شب وہ بزم کی رونق، شمع بھی تھی پروانہ بھی
رات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھی
مندرجہ بالا شعر میں صنعت تضاد کی نشاندہی کیجیے۔ [2 Marks]

Answer: اس شعر میں "اول" اور "آخر" متضاد الفاظ ہیں، یہی صنعتِ تضاد ہے۔

Teacher's Note:
a) صنعتِ تضاد میں ایک دوسرے کے الٹ معنی والے الفاظ لائے جاتے ہیں۔
b) دونوں متضاد الفاظ کو الگ الگ لکھ کر نشاندہی کیجیے۔

 

(iii) "صنعت تعلّی" کسے کہتے ہیں؟ [2 Marks]

Answer: جب شاعر مقطع کے شعر میں اپنی تعریف کرے تو اسے صنعتِ تعلّی کہتے ہیں۔

Teacher's Note:
a) تعلّی کا مطلب ہے شاعر کا اپنی بڑائی بیان کرنا۔
b) تعریف میں "مقطع" اور "اپنی تعریف" دونوں الفاظ ضرور لکھیے۔

 

(iv) جب کوئی لفظ حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں استعمال ہو اور حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق موجود ہو تو اسے کیا کہتے ہیں؟ شعری مثال بھی دیجیے۔ [2 Marks]

Answer:
اسے استعارہ کہتے ہیں۔
مثال:
اک تیر لگا چشم پہ اور سینے پہ بھالا
بند آنکھیں ہوئیں منہ سے لہو شیر نے ڈالا

Teacher's Note:
a) استعارے میں حقیقی اور مجازی معنی کے درمیان تشبیہ کا تعلق ہوتا ہے۔
b) اس مثال میں "شیر" بہادر انسان کے لیے استعمال ہوا ہے۔

 

(v) کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی
مندرجہ بالا شعر میں شاعر کون سی صنعت کی طرف اشارہ ہے؟ [2 Marks]

Answer: اس شعر میں صنعتِ تلمیح ہے۔

Teacher's Note:
a) تلمیح میں کسی مشہور واقعے یا قصے کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
b) یہاں "کوہِ طور" کا لفظ اسی اشارے کی پہچان ہے۔

 

(vi) کلام میں ایک لفظ کی مناسبت سے دیگر الفاظ کا لانا کیا کہلاتا ہے؟ مثال بھی دیجیے۔ [2 Marks]

Answer:
اسے مراعات النظیر کہتے ہیں۔
مثال:
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

Teacher's Note:
a) اس مثال میں پتہ، بوٹا، گل اور باغ ایک دوسرے کی مناسبت سے لائے گئے ہیں۔
b) نام کے ساتھ مثال بھی لکھیے، ورنہ پورے نمبر نہیں ملتے۔

 

(vii) "عظمت اللہ" چاند کی طرح خوبصورت ہے۔ اسے آپ کس فنی خوبی کی مثال کہیں گے؟ [2 Marks]

Answer: یہ تشبیہ کی مثال ہے۔

Teacher's Note:
a) یہاں عظمت اللہ کو خوبصورتی میں چاند سے تشبیہ دی گئی ہے۔
b) حرفِ تشبیہ "کی طرح" موجود ہے، اس لیے یہ استعارہ نہیں بلکہ تشبیہ ہے۔

 

(viii) ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالؔب کا ہے اندازِ بیاں اور
اس شعر میں کون سی فنی خوبی ہے؟ [2 Marks]

Answer: اس شعر میں صنعتِ تعلّی ہے۔

Teacher's Note:
a) مقطع میں شاعر (غالب) نے اپنے اندازِ بیان کی تعریف کی ہے، اس لیے یہ تعلّی ہے۔
b) اس سوال کا تعلق سوال (iii) کی تعریف سے ہے، دونوں کو ملا کر یاد کیجیے۔

Model Practice Papers & Solutions for Class 12 Urdu Elective

Get Started with CBSE Class 12 Urdu Elective Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download (CBSE)

Explore downloadable sample sets for Class 12 Urdu Elective. Utilizing the CBSE Class 12 Urdu Elective Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download allows learners to gauge exam readiness and master official CBSE assessment structures.

Why Practice Class 12 Urdu Elective Sample Papers?

  • Curriculum Insights: Clarify chapter-wise weightage rules and question trends across Class 12.
  • Gap Analysis: Check performance drops across sets to isolate specific Class 12 Urdu Elective topics needing extra attention.
  • Time Efficiency: Working through objective and descriptive problems builds critical pacing to finish exams comfortably.

Steps to Follow After Completing CBSE Class 12 Urdu Elective Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download

  1. Verify Answers: Compare your responses against professional teacher solutions provided in the sample paper keys.
  2. Error Analysis: Class 12 learners must review incorrect answers carefully to understand underlying mistakes.
  3. Concept Reinforcement: Consult the official NCERT book for Class 12 Urdu Elective when stuck before re-attempting problems.

FAQs

Where can I download the PDF for CBSE Class 12 Urdu Elective Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download?

You can download the complete PDF for CBSE Class 12 Urdu Elective Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download for free from StudiesToday.com. Our resources for Class 12 Urdu Elective are updated for the latest academic session and follow the official exam pattern.

Are solutions provided for CBSE Class 12 Urdu Elective Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download?

Yes, CBSE Class 12 Urdu Elective Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download comes with detailed, teacher-verified solutions. We have provided step-by-step answers for Urdu Elective to help students of Class 12 understand correct methodology and marking scheme.

How can practicing CBSE Class 12 Urdu Elective Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download help in exam preparation?

Practicing this Urdu Elective paper helps in time management and identifying important topics. For Class 12, solving mock papers is the best way to gain confidence and reduce exam-day anxiety.

Is the CBSE Class 12 Urdu Elective Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download accessible on mobile and tablets?

Yes, all our study materials for Class 12 Urdu Elective are provided in a mobile-friendly PDF format. You can easily download CBSE Class 12 Urdu Elective Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download on your mobile device.