CBSE Class 12 Urdu Core Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download

Official CBSE Practice Papers for Class 12 Urdu Core

Access comprehensive sample question papers for Class 12 Urdu Core using the CBSE Class 12 Urdu Core Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download. Designed to align with the 2026-27 CBSE academic guidelines, these model papers help students assess their exam readiness and understand current marking schemes.

Solved Model Papers for Urdu Core

View or download the dedicated CBSE Class 12 Urdu Core Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download resource below. Engaging with these sample papers under timed conditions ensures continuous academic progress and mastery of the 2026-27 exam format.

Section A - (حصہ الف)

 

1. درج ذیل غیر درسی عبارت کو غور سے پڑھیے اور دیے گئے سوالات کے جواب لکھیے۔ [10 Marks]

(A) سر سید احمد خاں ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جس نے تعلیمی تہذیبی اور معاشرتی زندگی کے ہر شعبہ میں ہماری رہبری اور رہنمائی کی ہے۔ وہ ادیب، شاعر، مورخ، مفکر اور مصلح تھے۔ وہ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر قوم کو زندہ رہنا ہے تو وقت کے تقاضوں کا ساتھ دینا ہوگا۔ وہ چاہتے تھے کہ مغربی تہذیب اور روایات کے ایسے عناصر جو ہماری قوم کے مسائل حل کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں انہیں قبول کر لیا جائے۔ یہی سر سید تحریک تھی۔ اس تحریک کی بنیاد فراخ دلی اور عقیدت پر تھی۔ سر سید احمد نے "تہذیب الاخلاق" رسالہ جاری کیا۔ سائنٹفک سوسائٹی قائم کی اور علی گڑھ کالج کی بنیاد ڈالی، جو آج مسلم یونیورسٹی ہے۔ سر سید احمد خاں نے اپنی تحریروں اور رسالوں کے ذریعہ اردو زبان و ادب، شاعری اور تنقید کا رخ موڑ دیا۔ ان کے رفقاء میں محمد حسین آزاد، نذیر احمد، الطاف حسین حالی اور مولانا شبلی قابل ذکر ہیں۔ سر سید تحریک نے اردو شعرا اور مصنفین کو نیا ادبی نقطۂ نظر دیا۔ موضوعات کو وسعت بخشی اور بیان کی سلاست اور سادگی پر زور دیا۔

 

I. سر سید کن کن حیثیتوں سے پہچانے جاتے ہیں؟ [1 Mark]

Answer: سر سید ایک ادیب، شاعر، مورخ، مفکر اور مصلح کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔

Teacher's Note:
a) جواب عبارت کے دوسرے جملے میں موجود ہے۔
b) پانچوں حیثیتیں لکھیے: ادیب، شاعر، مورخ، مفکر اور مصلح۔

 

II. سر سید کے رسالہ کا نام بتائیے۔ [1 Mark]

Answer: سر سید کے رسالہ کا نام "تہذیب الاخلاق" تھا۔

Teacher's Note:
a) رسالے کا نام صحیح املا کے ساتھ لکھیے۔
b) سائنٹفک سوسائٹی رسالہ نہیں بلکہ ایک ادارہ تھا، اسے جواب میں نہ لکھیے۔

 

III. سر سید تحریک کی بنیاد کن باتوں پر تھی؟ [1 Mark]

Answer: سر سید تحریک کی بنیاد فراخ دلی اور عقیدت پر تھی۔

Teacher's Note:
a) اہم الفاظ "فراخ دلی" اور "عقیدت" ہیں۔
b) دونوں باتیں لکھیے، ایک لکھنے سے جواب ادھورا رہ جائے گا۔

 

IV. سر سید تحریک نے اردو شعرا اور مصنفین کو کیا دیا؟ [1 Mark]

Answer: سر سید تحریک نے اردو شعرا اور مصنفین کو نیا ادبی نقطۂ نظر دیا۔

Teacher's Note:
a) کلیدی لفظ "نیا ادبی نقطۂ نظر" ہے۔
b) مکمل جملے میں جواب لکھیے۔

 

V. علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی کون ہیں؟ [1 Mark]

Answer: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں تھے۔

Teacher's Note:
a) عبارت کے مطابق سر سید نے علی گڑھ کالج کی بنیاد ڈالی جو آج مسلم یونیورسٹی ہے۔
b) ان کے رفقاء کے نام بانی کے طور پر نہ لکھیے۔

 

(B) ڈولفن دنیا کی سب سے ذہین آبی مخلوق ہے۔ یہ مچھلی ہے اور نہیں بھی۔ اس کی شکل مچھلی سے ملتی ہے۔ لیکن یہ اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔ اس لیے مچھلیوں کی نسل میں سے نہیں ہے۔ سائنسدانوں نے اسے دودھ پلانے والے جانوروں میں شمار کیا ہے۔
ڈولفن انسانوں کی دوست ہوتی ہے۔ اسے انسان اچھے لگتے ہیں۔ وہ انسانوں سے ہمدردی سے پیش آتی ہے۔ انسان اسے پالتے ہیں۔ اسے تربیت دیتے ہیں اور وہ تربیت کے بعد ان کے اشاروں پر ناچتی ہے۔ الگ الگ طرح کے کھیل دکھاتی ہے اچھلتی کودتی ہے۔ پانی میں دوڑتی ہے۔ بال سے کھیلتی ہے۔ اس کی انہی باتوں کے سبب یہ مانا جاتا ہے کہ اس میں زبان سیکھنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ انسان طوطوں اور دوسرے پرندوں کو اپنی زبان سکھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ کچھ حد تک اس میں کامیابی بھی مل ہے۔ لیکن یہ موقع ابھی نہیں آیا کہ ان کے ساتھ بامعنی بات چیت کی جا سکے۔ البتہ ڈولفن کے ساتھ اشاروں میں بات چیت ہوتی ہے۔ وہ سیٹی کی آواز سن کر ردِّ عمل کرتی ہے اور انسان اسے تربیت دیتے ہیں کہ وہ ان کے اشاروں پر چلے۔ دوستی کے اس رشتے کو دونوں نے نبھایا ہے۔ انسان ڈولفن سے محبت کرتا ہے اور ڈولفن انسان سے۔

 

I. ڈولفن کو مچھلیوں میں کیوں شمار نہیں کیا جاتا؟ [1 Mark]

Answer: ڈولفن اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے، اس لیے اسے مچھلیوں میں شمار نہیں کیا جاتا۔

Teacher's Note:
a) وجہ "بچوں کو دودھ پلانا" ضرور لکھیے۔
b) شکل مچھلی سے ملنے کی بات وجہ نہیں ہے۔

 

II. ڈولفن کون کون سے کھیل دکھاتی ہے؟ [1 Mark]

Answer: ڈولفن اچھلتی کودتی ہے، پانی میں دوڑتی ہے اور بال سے کھیلتی ہے۔

Teacher's Note:
a) تینوں کھیل لکھیے: اچھلنا کودنا، پانی میں دوڑنا اور بال سے کھیلنا۔
b) جواب عبارت کے دوسرے پیراگراف میں ہے۔

 

III. تربیت میں مہارت کے سبب ڈولفن کے بارے میں کیا سوچا جاتا ہے؟ [1 Mark]

Answer: ڈولفن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ اس میں زبان سیکھنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔

Teacher's Note:
a) کلیدی الفاظ "زبان سیکھنے کی صلاحیت" ہیں۔
b) طوطوں والی بات اس سوال کا جواب نہیں ہے۔

 

IV. ڈولفن کس آواز پر رد عمل کرتی ہے؟ [1 Mark]

Answer: ڈولفن سیٹی کی آواز سن کر رد عمل کرتی ہے۔

Teacher's Note:
a) صرف "سیٹی کی آواز" لکھنا کافی ہے، مگر پورا جملہ بہتر ہے۔
b) جواب عبارت کے آخری حصے میں ہے۔

 

V. ڈولفن اور انسانوں کے بیچ رشتے کی وضاحت کیجیے۔ [1 Mark]

Answer: ڈولفن اور انسانوں کے درمیان دوستی کا رشتہ پایا جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔

Teacher's Note:
a) "دوستی" اور "ایک دوسرے سے محبت" دونوں باتیں لکھیے۔
b) جواب عبارت کے آخری دو جملوں سے لیا گیا ہے۔

 

2. درج ذیل میں سے کسی ایک عنوان پر مضمون لکھیے۔ [10 Marks]
(i) میرا ملک ہندوستان
(ii) پسندیدہ شاعر
(iii) سوشل میڈیا کی اہمیت

Answer:
سوشل میڈیا کی اہمیت
تمہید: آج کا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون نے دنیا کو ایک چھوٹے سے گاؤں میں بدل دیا ہے۔ اسی ترقی کی ایک اہم دین سوشل میڈیا ہے۔ سوشل میڈیا سے مراد وہ ویب سائٹیں اور ایپس ہیں جن کے ذریعے لوگ ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے ہیں اور اپنی باتیں، تصویریں اور ویڈیو دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔
نفس مضمون: سوشل میڈیا کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے ذریعے ہم دور بیٹھے رشتہ داروں اور دوستوں سے لمحوں میں بات کر سکتے ہیں۔ ملک اور دنیا کی خبریں فوراً ہم تک پہنچ جاتی ہیں۔ طلبہ کے لیے یہ علم حاصل کرنے کا ایک آسان ذریعہ ہے۔ وہ تعلیمی ویڈیو دیکھتے ہیں، سوالات پوچھتے ہیں اور اپنے استادوں اور ساتھیوں سے مشورہ کرتے ہیں۔ تاجر اپنے سامان کی تشہیر کرتے ہیں اور بہت سے نوجوان اس کے ذریعے روزگار بھی حاصل کر رہے ہیں۔ مصیبت کے وقت، جیسے سیلاب یا حادثے میں، سوشل میڈیا کے ذریعے مدد جلدی پہنچائی جاتی ہے۔ ادیب اور شاعر بھی اپنی تخلیقات بڑی تعداد میں قارئین تک پہنچا سکتے ہیں۔
لیکن ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال وقت کی بربادی کا سبب بنتا ہے۔ اس پر جھوٹی خبریں بھی تیزی سے پھیلتی ہیں جن سے سماج میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ دیر تک اسکرین دیکھنے سے آنکھوں اور صحت پر برا اثر پڑتا ہے اور طلبہ کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں ہر خبر کو آگے بھیجنے سے پہلے اس کی سچائی جانچ لینی چاہیے اور اپنی ذاتی معلومات کی حفاظت کرنی چاہیے۔
خاتمہ: مختصر یہ کہ سوشل میڈیا ہمارے زمانے کی ایک بڑی نعمت ہے۔ اگر ہم اسے سمجھداری اور اعتدال کے ساتھ استعمال کریں تو یہ ہماری تعلیم، معلومات اور ترقی کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس کا غلط استعمال نقصان دہ ہے، اس لیے اس کا مثبت استعمال ہی ہماری ذمہ داری ہے۔

Teacher's Note:
a) نمبروں کی تقسیم یہ ہے: تمہید و تعارف 2، نفس مضمون 6 اور خاتمہ 2 نمبر۔
b) نفس مضمون میں فائدے اور نقصان دونوں پہلو لکھیے اور مضمون کو پیراگراف میں بانٹیے۔
c) صرف ایک عنوان پر مضمون لکھیے اور عنوان اوپر ضرور لکھیے۔

 

3. (A) بہن کی شادی میں جانے کے لیے اپنے پرنسپل کے نام چار دن کی چھٹی کی درخواست لکھیے۔ [8 Marks]

Answer:
امتحان ہال
تاریخ: 25 ستمبر 2026
بخدمت جناب پرنسپل صاحب
الف ب ج سینئر سیکنڈری اسکول، نئی دہلی
موضوع: چار دن کی چھٹی کی درخواست
جناب عالی!
گزارش ہے کہ میں آپ کے اسکول میں بارہویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ میری بڑی بہن کی شادی 28 ستمبر 2026 کو ہونا طے پائی ہے۔ شادی کی تیاریوں اور رسموں میں میرا گھر پر رہنا بہت ضروری ہے۔ گھر میں بڑا بیٹا ہونے کی وجہ سے مجھ پر کئی ذمہ داریاں ہیں۔ اس لیے میں اسکول نہیں آ سکوں گا۔
لہٰذا آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ مجھے 27 ستمبر سے 30 ستمبر 2026 تک چار دن کی چھٹی عطا فرمائیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ واپس آ کر چھوٹا ہوا سبق اپنے ساتھیوں کی مدد سے مکمل کر لوں گا۔
آپ کی عین نوازش ہوگی۔
آپ کا فرماں بردار شاگرد
ا ب ج
جماعت: بارہویں (الف)

Teacher's Note:
a) خاکہ کے 4 نمبر ہیں: عہدہ، پتا، تاریخ، القاب و آداب اور اختتام صحیح جگہ لکھیے۔
b) نفس مضمون کے 4 نمبر ہیں: وجہ، چھٹی کی مدت اور تاریخیں صاف لکھیے۔
c) درخواست میں اصل نام کی جگہ ا ب ج جیسے فرضی نام لکھیے۔

یا

(B) اپنی والدہ کو خط لکھ کر فیس جمع کرنے کے لیے رقم بھیجنے کی درخواست کیجیے۔ [8 Marks]

Answer:
امتحان ہال
تاریخ: 25 ستمبر 2026
پیاری امی جان
السلام علیکم!
امید ہے کہ آپ اور گھر کے سب لوگ خیریت سے ہوں گے۔ میں بھی یہاں ہاسٹل میں خیریت سے ہوں اور میری پڑھائی اچھی چل رہی ہے۔ آج میں آپ کو ایک ضروری کام کے لیے خط لکھ رہا ہوں۔
ہمارے اسکول میں اس سہ ماہی کی فیس جمع کرنے کی آخری تاریخ 10 اکتوبر ہے۔ فیس کے ساتھ امتحان کی فیس بھی جمع کرنی ہے۔ کل رقم پانچ ہزار روپے بنتی ہے۔ میرے پاس جو پیسے تھے وہ کتابیں اور کاپیاں خریدنے میں خرچ ہو گئے۔ آپ سے گزارش ہے کہ یہ رقم جلد سے جلد میرے بینک کھاتے میں بھیج دیں تاکہ میں وقت پر فیس جمع کر سکوں اور جرمانہ نہ دینا پڑے۔
میں وعدہ کرتا ہوں کہ پیسے سوچ سمجھ کر خرچ کروں گا اور خوب محنت سے پڑھوں گا۔ ابو جان کو سلام اور چھوٹی بہن کو پیار کہیے گا۔
آپ کا پیارا بیٹا
ا ب ج

Teacher's Note:
a) خاکہ کے 4 نمبر ہیں: پتا، تاریخ، القاب و آداب اور اختتام کی ترتیب درست رکھیے۔
b) نفس مضمون کے 4 نمبر ہیں: رقم کی ضرورت، رقم کتنی ہے اور کب تک چاہیے، یہ صاف لکھیے۔
c) والدہ کے لیے "پیاری امی جان" جیسے ادب والے القاب استعمال کیجیے۔

 

4. درج ذیل عبارت کا خلاصہ لکھیے اور اس کا مناسب عنوان بھی تجویز کیجیے۔ [7 Marks]

اچھے کھلاڑیوں کی دنیا کے ہر ملک میں قدر کی جاتی ہے۔ سماج میں ان کو باعزت مقام حاصل ہوتا ہے۔ اور ان کے کھیل کی صلاحیتیں ان کو روزگار مہیا کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ کھیلنے سے صحت اچھی رہتی ہے۔ کھیل سے نہ صرف جسم مضبوط اور تندرست ہوتا ہے بلکہ دماغ بھی تروتازہ ہوتا ہے۔ کھیل کے ذریعہ نہ صرف ایمانداری کے ساتھ کام کرنے کی عادت ہوتی ہے بلکہ اپنے مخالفین سے اچھا برتاؤ کرنا بھی آتا ہے اور مشکل وقت میں ٹھنڈے دماغ کے ساتھ صورت حال پر قابو پانے کا سبق بھی ملتا ہے۔ ہر کھلاڑی جیتنے کے لیے کھیل کھیلتا ہے لیکن اگر جیتنے کے امکان کم ہوتے ہیں تو وہ ہمت نہیں ہارتا بلکہ اور زیادہ محنت اور لگن اور توجہ کے ساتھ کھیلتا ہے تاکہ جیت سکے۔ کھیل کے ذریعے کھلاڑیوں میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کا سلیقہ سیکھتے ہیں۔ ٹیم کے کپتان کا حکم ماننے کا سبق حاصل کرتے ہیں اور مقصد کو حاصل کرنے کے لیے متحدہ کوشش کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

Answer:
خلاصہ: اچھے کھلاڑیوں کی دنیا بھر میں قدر کی جاتی ہے اور کھیل کی صلاحیتوں کی وجہ سے انہیں روزگار ملنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔ کھیلنے سے جسم مضبوط اور دماغ تازہ ہوتا ہے۔ کھیل کھیلنے سے اخلاق اچھا ہوتا ہے، ایمانداری آتی ہے اور نظم و ضبط کی صفت بھی پیدا ہوتی ہے۔ کھلاڑی مل جل کر کام کرنا اور مقصد کے لیے متحدہ کوشش کرنا سیکھتے ہیں۔
عنوان: کھیل کی اہمیت

Teacher's Note:
a) خلاصہ کے 5 نمبر اور عنوان کے 2 نمبر ہیں۔
b) "کھلاڑیوں کی قدر و منزلت" بھی مناسب عنوان کے طور پر قبول ہے۔
c) خلاصہ اصل عبارت کا تقریباً ایک تہائی ہو اور اپنے الفاظ میں لکھا جائے۔

 

5. درج ذیل محاوروں میں سے کسی پانچ کے معنی لکھیے اور انہیں جملوں میں استعمال کیجیے۔ [10 Marks]
(i) پینترا بدلنا (ii) فتنہ کھڑا کرنا (iii) طوطی بولنا (iv) برس پڑنا
(v) جوئے شیر لانا (vi) خاک میں مل جانا (vii) مونچھ اونچی رہنا (viii) ناک کٹنا

Answer:
(i) پینترا بدلنا (رخ بدلنا)
جملہ: اسلم کو بات بگڑتی محسوس ہوئی تو اُس نے پینترا بدل کر پھر سے اپنی بات شروع کی۔
(ii) فتنہ کھڑا کرنا (ہنگامہ کرنا)
جملہ: کل بازار میں معمولی سی بات پر فتنہ کھڑا ہو گیا۔
(iii) طوطی بولنا (شہرت ہونا)
جملہ: ابھی تک سنگیت کے میدان میں لتا کا طوطی بول رہا ہے۔
(iv) برس پڑنا (غصہ کرنا)
جملہ: بھائی کے رات دیر سے گھر آنے پر ابو برس پڑے۔
(v) جوئے شیر لانا (مشکل کام کرنا)
جملہ: 20 اوور کے میچ میں سینچری بنانا احمد کے لیے جوئے شیر لانے جیسا ہے۔

Teacher's Note:
a) ہر محاورے کے 2 نمبر ہیں: ایک معنی کا اور ایک جملے کا۔
b) جملہ ایسا بنائیے جس سے محاورے کا مطلب صاف سمجھ میں آئے۔
c) باقی محاوروں کے معنی: خاک میں مل جانا (برباد ہو جانا، مٹ جانا)، مونچھ اونچی رہنا (بات بنی رہنا، عزت بنی رہنا)، ناک کٹنا (بے عزتی ہونا)۔

 

Section B - (حصہ ب)

 

6. درج ذیل نثری اقتباس کو غور سے پڑھیے اور دیے گئے سوالات کے جواب لکھیے۔ [7 Marks]

ایک اور جگہ سے دعوت نامہ آیا۔ ہمارے میز بان وہاں کے معزز اور دولت مند لوگوں میں سے تھے۔ میز بانی کے فرائض خاتون خانہ ادا کر رہی تھیں۔ ڈرائنگ روم میں پہنچے تو دن کو تارے نظر آنے لگے۔ ایسی خوبصورت اور پُر تکلف نایاب چیزیں ایک ساتھ دیکھنی کب نصیب ہوئی تھیں۔ البتہ ان کا تذکرہ میلاد میں سنا تھا یا طِلسم ہوش رُبا میں پڑھا تھا۔ مالک سے زیادہ پُر شوکت نوکر نوکرانیاں تھیں۔ کس کی تعظیم کیجیے اور کس سے تعظیم لیجیے۔ کھانے کے کمرے میں داخل ہوئے تو معلوم ہوا کہ شاید دنیا کے سب سے بڑے آدمی کا سب سے بڑے شفاخانے میں آپریشن ہونے والا ہے۔ ہر طرف سوائے صفائی اور سامان جرّاحی کے کچھ نظر نہ آتا تھا۔ اول تو کھانے کا گانگ بجا تو ہم نے سمجھا ہماری روح قبض کرنے کا کوئی آلہ ایجاد ہوا ہے۔ کھانا آیا اور آتا رہا۔

 

i. یہ اقتباس کس سبق سے لیا گیا ہے اور اس کے مصنف کا نام کیا ہے؟ [2 Marks]

Answer: یہ اقتباس سبق "دعوت" سے لیا گیا ہے۔ اس سبق کے مصنف رشید احمد صدیقی ہیں۔

Teacher's Note:
a) سبق کے نام کا ایک نمبر اور مصنف کے نام کا ایک نمبر ہے۔
b) مصنف کا پورا نام "رشید احمد صدیقی" لکھیے۔

 

ii. میز بانی کے فرائض کس نے ادا کیے؟ [1 Mark]

Answer: میزبانی کے فرائض خاتون خانہ نے ادا کیے۔

Teacher's Note:
a) جواب اقتباس کے تیسرے جملے میں ہے۔
b) "میزبان" اور "خاتون خانہ" میں فرق سمجھیے، فرائض خاتون خانہ ادا کر رہی تھیں۔

 

iii. مالک سے زیادہ پر شوکت کون تھا؟ [1 Mark]

Answer: مالک سے زیادہ پر شوکت نوکر نوکرانیاں تھیں۔

Teacher's Note:
a) یہ جملہ مصنف کے طنز و مزاح کا نمونہ ہے۔
b) نوکر اور نوکرانیاں دونوں لکھیے۔

 

iv. کھانے کا گانگ سن کر مصنف کو کیا لگا؟ [1 Mark]

Answer: کھانے کا گانگ بجا تو مصنف کو لگا کہ اس کی روح قبض کرنے کا کوئی آلہ ایجاد ہوا ہے۔

Teacher's Note:
a) کلیدی الفاظ "روح قبض کرنے کا آلہ" ہیں۔
b) یہ بات مصنف نے مزاحیہ انداز میں کہی ہے۔

 

v. لفظ ‘پر شوکت’ اور ‘شفاخانہ’ کے معنی لکھیے؟ [2 Marks]

Answer: پر شوکت کے معنی شاندار اور شفاخانہ کے معنی اسپتال ہیں۔

Teacher's Note:
a) ہر لفظ کے معنی کا ایک نمبر ہے۔
b) دونوں الفاظ کے معنی الگ الگ صاف لکھیے۔

 

7. مہرولی کے بازار کا کیا نقشہ تھا؟ [5 Marks]

Answer: پھول والوں کی سیر کا جلوس جب مہرولی کے بازار پہنچا تو بازار پورا سجا ہوا تھا۔ دنیا بھر کے سودے والوں کی دکانیں لگ گئی تھیں۔ میوے، مٹھائیوں اور کھلونوں سے بازار پٹا پڑا تھا۔ کڑھائیوں میں پکوان پک رہے تھے۔ پوریوں، کچوڑیوں، کباب، پراٹھے، بریانی اور متنجن کی خوشبو سے سارا بازار مہک رہا تھا۔ پنواڑن دکان پر پان بنا رہی تھیں۔ دوست احباب پان کھا کر منہ رچا رہے تھے۔ گجرے کی خوشبو سے سارا ماحول معطر تھا۔ ساقی کا رنگ بھی کچھ نیا تھا۔

Teacher's Note:
a) دکانوں، کھانوں کی خوشبو، پان اور گجروں کا ذکر ضرور کیجیے۔
b) جواب کو بازار کی رونق کی ایک مکمل تصویر کی طرح لکھیے۔

یا

"گاؤں کی لاج" کی روشنی میں رائے صاحب اور خان صاحب کے کرداروں پر روشنی ڈالیے۔ [5 Marks]

Answer: سبق "گاؤں کی لاج" میں رائے صاحب اور خان صاحب دو اہم کردار ہیں۔ دونوں زمین دار تھے۔ دونوں خاندانی رئیس اور مغرور تھے۔ دونوں ہر وقت اپنی مونچھ اونچی رکھنا چاہتے تھے۔ لکھن پور کے بٹوارے کے سبب زمینوں کے معاملے میں مقدمے تھے۔ رائے صاحب کی ہار اور خان صاحب کی جیت پر دونوں میں رنجش بڑھ گئی۔ رائے صاحب اپنے ملک ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے علم بردار تھے۔ کسی قسم کی تفریق سے آزاد اور بلند تھے۔ وہ یہ مانتے تھے کہ گاؤں کی لاج سب کی لاج ہوتی ہے۔ خان صاحب نے اپنی بیٹی کی شادی میں رائے صاحب کو مدعو نہیں کیا۔ لیکن جب باراتی ناراض ہو کر جانے لگے تو رائے صاحب نے باراتیوں کو سمجھا کر اور ڈرا کر شادی کرنے پر آمادہ کیا۔ اس طرح انہوں نے صرف خان صاحب کی ہی نہیں بلکہ پورے گاؤں کی لاج رکھ لی۔ خان صاحب کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے رائے صاحب کی آمد کے بغیر بیٹی کا نکاح نہیں پڑھوایا۔

Teacher's Note:
a) دونوں کرداروں کی مشترک خوبیاں (زمین دار، خاندانی رئیس، مغرور) اور الگ خوبیاں دونوں لکھیے۔
b) رائے صاحب کی گنگا جمنی تہذیب اور گاؤں کی لاج رکھنے والا واقعہ ضرور بیان کیجیے۔

 

8. درج ذیل سوالات میں سے صرف چار کے جواب لکھیے۔ [8 Marks]

 

i. صوبہ کا نام میگھالیہ کیوں رکھا گیا؟ [2 Marks]

Answer: صوبہ کا نام میگھالیہ اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ صوبہ سال بھر بادلوں سے ڈھکا رہتا ہے۔

Teacher's Note:
a) کلیدی بات "سال بھر بادلوں سے ڈھکا رہنا" ہے۔
b) جواب مکمل جملے میں وجہ کے ساتھ لکھیے۔

 

ii. ڈرامہ آگرہ بازار میں لوگ بازار سے بے نیازی سے کیوں گزر جاتے تھے؟ [2 Marks]

Answer: آگرہ میں سب کے کاروبار ٹھپ پڑے ہوئے تھے۔ ہر شخص اپنی روزی حاصل کرنے کی فکر میں مبتلا تھا۔ لوگوں کی دکانیں اور کارخانے بند پڑے تھے۔ دکانوں پر خریدار نہیں تھے۔

Teacher's Note:
a) کاروبار کا ٹھپ ہونا اور روزی کی فکر، دونوں باتیں لکھیے۔
b) دکانوں اور کارخانوں کے بند ہونے کا ذکر جواب کو مکمل بناتا ہے۔

 

iii. رائے صاحب مہتو گڑھیا کا مقدمہ کیوں ہار گئے؟ [2 Marks]

Answer: مہتو گڑھیا خان صاحب کی تھی، جس میں رائے صاحب کا تقریباً آدھا بیگھا کھیت شامل ہو گیا تھا۔ اس لیے رائے صاحب آمدنی کا کچھ حصہ لینا چاہتے تھے لیکن خان صاحب نے دینے سے انکار کر دیا۔ اس مسئلہ کی وجہ سے دونوں کے بیچ مقدمہ بازی ہوئی۔ کھیت چونکہ خان صاحب کے مقبوضہ تھے اس لیے رائے صاحب مقدمہ ہار گئے۔

Teacher's Note:
a) اصل وجہ یہ ہے کہ کھیت خان صاحب کے قبضے میں تھے۔
b) مقدمے کا پس منظر (آدھا بیگھا کھیت اور آمدنی کا حصہ) مختصر طور پر لکھیے۔

 

iv. لتا کے گائے ہوئے گیتوں میں کون سی بات آسان اور فطری معلوم ہوتی ہے؟ [2 Marks]

Answer: لتا کے گائے ہوئے گیتوں میں دو لفظوں کے بیچ کا فاصلہ ترنم سے اس طرح بھرا ہوتا ہے کہ دونوں لفظ ایک دوسرے میں سمائے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہی بات لتا کے گانوں میں آسان اور فطری معلوم ہوتی ہے۔

Teacher's Note:
a) کلیدی الفاظ "دو لفظوں کے بیچ کا فاصلہ ترنم سے بھرا ہونا" ہیں۔
b) لفظوں کا ایک دوسرے میں سمایا ہوا محسوس ہونا ضرور لکھیے۔

 

v. چچا چھکن کے خط کو منصرم صاحب کی بیوی نے کیوں واپس کر دیا؟ [2 Marks]

Answer: چچا چھکن کے خط کو منصرم صاحب کی بیوی نے اس لیے واپس کر دیا کیونکہ خط پڑھ کر ان کو لگا کہ شاید غلطی سے کسی اور کے نام کا خط ان کے پاس آ گیا ہے۔

Teacher's Note:
a) اصل وجہ "غلطی سے کسی اور کے نام کا خط" سمجھنا ہے۔
b) جواب میں خط پڑھنے کے بعد کا ردعمل صاف لکھیے۔

 

vi. مصنف کے بھائی نے مزاج پرسی کرنے والوں کے لیے فون کی پابندی پر کیا نوٹس لگایا؟ [2 Marks]

Answer: مصنف کے بھائی نے مزاج پرسی کرنے والوں کے لیے نوٹس لگا دیا کہ جو صاحبان مزاج پرسی کو آئیں وہ فون کو ہاتھ نہ لگائیں اور جو فون کرنے آئیں وہ مزاج دریافت نہ کریں۔

Teacher's Note:
a) نوٹس کے دونوں حصے لکھیے: مزاج پرسی والے فون نہ چھوئیں اور فون کرنے والے مزاج نہ پوچھیں۔
b) یہ جملہ مزاحیہ انداز کی اچھی مثال ہے، اسے اسی ترتیب سے لکھیے۔

 

vii. خطوں کو غالب نے اپنی دل لگی کا سامان کیوں کہا ہے؟ [2 Marks]

Answer: غالب نے خطوں کو اپنی دل لگی کا سامان اس لیے کہا ہے کیونکہ اطراف و جوانب سے دو چار خط ان کے پاس آ جاتے ہیں۔ ان کو پڑھنے اور ان کا جواب لکھنے میں ان کا دن گزر جاتا ہے اور دل لگی ہو جاتی ہے۔

Teacher's Note:
a) خط پڑھنا اور جواب لکھنا، دونوں کاموں کا ذکر کیجیے۔
b) "دن گزر جاتا ہے" والی بات جواب کا اہم حصہ ہے۔

 

viii. رعایا نے بادشاہ سے کیا انعام پایا؟ [2 Marks]

Answer: رعایا نے بادشاہ سے حسب مراتب انعام پائے۔ کسی کو سلا، کسی کو دوشالہ، کسی کو مندیل یا کپڑے ملے۔

Teacher's Note:
a) "حسب مراتب" یعنی ہر ایک کو اس کے درجے کے مطابق انعام ملا۔
b) انعام کی چیزوں کے نام (دوشالہ، مندیل، کپڑے) ضرور لکھیے۔

 

9. (A) نظم "پرچھائیاں" کا مرکزی خیال لکھیے۔ [5 Marks]

Answer: ہمارے نصاب میں شامل نظم "پرچھائیاں" ساحر لدھیانوی کی لکھی ہوئی ایک بہترین طویل نظم ہے۔ اس کا موضوع عالمی امن ہے۔ نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ انسانیت کی بقا و ترقی کے لیے امن ضروری ہے۔ نظم کے ذریعہ شاعر نے جنگ کے بعد ہونے والی تباہی سے آگاہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ ہمیں تیسری عالمی جنگ کے امکان کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا۔ انسانی معاشرے اور تہذیب کی سب سے بڑی ضرورت امن ہے اور یہ امن سب کی کوشش سے ہی ممکن ہے۔

Teacher's Note:
a) شاعر کا نام، نظم کا موضوع (عالمی امن) اور مرکزی خیال تینوں لکھیے۔
b) جنگ کی تباہی اور تیسری عالمی جنگ کو روکنے کا پیغام ضرور بیان کیجیے۔

یا

(B) مثنوی "اپنے گھر کا حال" میں پیش کیے گئے خیالات کو اپنے الفاظ میں لکھیے۔ [5 Marks]

Answer: مثنوی "اپنے گھر کا حال" میں میر تقی میر نے اپنے گھر کی ابتری کا حال بہت دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ میر کا گھر بہت خستہ حال ہے۔ چار دیواری جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے۔ چھت ٹپکتی ہے۔ چڑیاں چھت کے تنکے نکال رہی ہیں۔ گھر میں سامان کے نام پر ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی ہے جس میں بے انتہا کھٹمل ہیں۔ کھٹملوں کو مارنے میں رات گزر جاتی ہے۔ کھٹملوں کو چارپائی سے جھاڑنے میں باندھ بھی ٹوٹ کر ختم ہو گئے ہیں۔ ذرا سی بارش ہونے پر بہت پرانی دیوار گر گئی۔ دیوار گرنے کی وجہ سے کتوں نے گھر کو راستہ بنا لیا۔ کتوں کے غرانے کی آوازوں نے دماغ خالی کر دیا۔ گھر میں نہ دن کا سکون ہے نہ رات کو آرام ہے۔ گھر صرف نام کا گھر ہے۔

Teacher's Note:
a) ٹوٹی دیوار، ٹپکتی چھت، کھٹمل والی چارپائی اور کتوں کا ذکر ضرور کیجیے۔
b) جواب کا خاتمہ اس بات پر کیجیے کہ گھر صرف نام کا گھر ہے۔

 

10. درج ذیل سوالات کے مختصر جواب لکھیے۔ [5 Marks]

 

(1) مثنوی کے کیا معنی ہیں؟ [1 Mark]

Answer: مثنوی کے معنی ہیں دو دو کیا ہوا۔ یہ شاعری کی ایک قسم ہے جس میں ہر شعر کا الگ قافیہ ہوتا ہے۔

Teacher's Note:
a) لفظی معنی "دو دو کیا ہوا" ضرور لکھیے۔
b) مثنوی کی پہچان یہ ہے کہ اس کے ہر شعر کا قافیہ الگ ہوتا ہے۔

 

(2) شاعر نے زمین کو کس سے منسوب کیا ہے؟ [1 Mark]

Answer: شاعر نے زمین کو گوتم اور نانک سے منسوب کیا ہے۔

Teacher's Note:
a) دونوں نام لکھیے: گوتم اور نانک۔
b) ایک نام لکھنے سے جواب ادھورا رہ جائے گا۔

 

(3) مثنوی "اپنے گھر کا حال" میں "اس خرابی سے میں ہوا پامال" سے شاعر کی کیا مراد ہے؟ [1 Mark]

Answer: اس مصرعے سے شاعر کی مراد ہے کہ گھر خراب ہونے کی وجہ سے وہ برباد ہو گیا۔

Teacher's Note:
a) "پامال" کا مطلب یہاں برباد ہونا ہے۔
b) گھر کی خرابی کو شاعر کی بربادی کی وجہ کے طور پر لکھیے۔

 

(4) نظم "پرچھائیاں" کے شاعر کا نام لکھیے؟ [1 Mark]

Answer: نظم "پرچھائیاں" کے شاعر کا نام ساحر لدھیانوی ہے۔

Teacher's Note:
a) شاعر کا نام صحیح املا کے ساتھ لکھیے۔
b) یہی نظم سوال 9 (A) میں بھی آئی ہے۔

 

(5) میر تقی میرؔ کے ماموں کا کیا نام تھا؟ [1 Mark]

Answer: میر تقی میرؔ کے ماموں کا نام سراج الدین علی خان آرزو تھا۔

Teacher's Note:
a) پورا نام "سراج الدین علی خان آرزو" لکھیے۔
b) شاعروں کی زندگی سے جڑے ایسے نام الگ سے یاد کیجیے۔

 

11. درج ذیل سوالات کے متبادل جواب میں سے صحیح جواب کی نشاندہی کیجیے۔ [5 Marks]

 

i. افسانہ کی بنیادی چیز کیا ہے؟ [1 Mark]
(A) مشاہدہ
(B) کردار
(C) وحدت تاثر
(D) مکالمہ

Answer: (C) وحدت تاثر

Teacher's Note:
a) افسانہ کا بنیادی وصف وحدت تاثر ہے۔
b) کردار اور مکالمہ افسانے کے اجزا ہیں، بنیادی چیز نہیں۔

 

ii. مرزا غالب نے خطوط نگاری میں ایک نئے طرز کی بنیاد ڈالی انہوں نے-------------۔ [1 Mark]
(A) مراسلے کو مکالمہ بنا دیا
(B) مکالمہ کو مراسلہ بنا دیا
(C) خط کو مضمون بنا دیا
(D) مضمون کو خط بنا دیا

Answer: (A) مراسلے کو مکالمہ بنا دیا

Teacher's Note:
a) غالب کے بارے میں مشہور بات ہے کہ انہوں نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا۔
b) آپشن (A) اور (B) کو الٹ کر نہ پڑھیے۔

 

iii. امتیاز علی تاج کس قسم کی تحریروں کے لیے جانے جاتے ہیں؟ [1 Mark]
(A) مزاحیہ
(B) سنجیدہ
(C) رنجیدہ
(D) معلوماتی

Answer: (A) مزاحیہ

Teacher's Note:
a) چچا چھکن کے کردار والی تحریریں امتیاز علی تاج کی مزاح نگاری کی مثال ہیں۔
b) سوال 8 (v) بھی اسی مزاحیہ کردار سے متعلق ہے۔

 

iv. "پھول والوں کی سیر" کے مصنف کا نام ہے۔ [1 Mark]
(A) علی عباس حسینی
(B) حبیب تنویر
(C) مرزا فرحت اللہ بیگ
(D) سید امتیاز علی تاج

Answer: (C) مرزا فرحت اللہ بیگ

Teacher's Note:
a) "پھول والوں کی سیر" مرزا فرحت اللہ بیگ کا لکھا ہوا سبق ہے۔
b) سوال 7 کا مہرولی کے بازار والا جواب بھی اسی سبق سے ہے۔

 

v. دنیا میں سب سے زیادہ بارش والا علاقہ ہے۔ [1 Mark]
(A) شیلانگ
(B) بنگال
(C) آسام
(D) چیراپونجی

Answer: (D) چیراپونجی

Teacher's Note:
a) چیراپونجی میگھالیہ میں واقع ہے۔
b) شیلانگ میگھالیہ کی راجدھانی ہے، اسے چیراپونجی سے نہ ملائیے۔

Exam Preparation Sample Paper for Class 12 Urdu Core CBSE Class 12 Urdu Core Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download

Get Started with CBSE Class 12 Urdu Core Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download (CBSE)

Review model practice papers for Class 12 Urdu Core. Working through the CBSE Class 12 Urdu Core Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download under simulated test conditions at home ensures complete familiarity with upcoming school evaluations.

Maximize Your Scores with Model Papers

  • Exam Blueprint: Understand mark allocations and structural guidelines relevant to Class 12 evaluations.
  • Targeted Improvement: Identify weak areas in Class 12 Urdu Core requiring focused revision.
  • Pacing & Precision: Practice mixed question formats to build execution speed and ensure timely paper completion.

How to Analyze Your Performance in CBSE Class 12 Urdu Core Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download

  1. Verify Answers: Compare your responses against professional teacher solutions provided in the sample paper keys.
  2. Error Analysis: Class 12 learners must review incorrect answers carefully to understand underlying mistakes.
  3. Concept Reinforcement: Consult the official NCERT book for Class 12 Urdu Core when stuck before re-attempting problems.

FAQs

Where can I download the PDF for CBSE Class 12 Urdu Core Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download?

You can download the complete PDF for CBSE Class 12 Urdu Core Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download for free from StudiesToday.com. Our resources for Class 12 Urdu Core are updated for the latest academic session and follow the official exam pattern.

Are solutions provided for CBSE Class 12 Urdu Core Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download?

Yes, CBSE Class 12 Urdu Core Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download comes with detailed, teacher-verified solutions. We have provided step-by-step answers for Urdu Core to help students of Class 12 understand correct methodology and marking scheme.

How can practicing CBSE Class 12 Urdu Core Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download help in exam preparation?

Practicing this Urdu Core paper helps in time management and identifying important topics. For Class 12, solving mock papers is the best way to gain confidence and reduce exam-day anxiety.

Is the CBSE Class 12 Urdu Core Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download accessible on mobile and tablets?

Yes, all our study materials for Class 12 Urdu Core are provided in a mobile-friendly PDF format. You can easily download CBSE Class 12 Urdu Core Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download on your mobile device.