Download NCERT Class 9 Urdu Textbooks
Access the official NCERT textbook for Class 9 Urdu, updated for the 2026-27 academic session. This digital resource provides the foundational knowledge required for exam success and conceptual clarity.
Access Chapter 11 Ramayan Ka Ek Scene for Class 9 Urdu
Navigate directly to the Chapter 11 Ramayan Ka Ek Scene section using the digital viewer below. Organizing your study sessions chapter-by-chapter allows for seamless offline review. Be sure to utilize the accompanying NCERT Solutions to verify your textbook answers.
نظم
نظم کے معنی انتظام، ترتیب یا آرائش کے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے ایک معنی لڑی میں موتی پرونا بھی ہیں۔ نظم شاعری کی ایک ایسی صنف ہے جس میں کسی خاص موضوع پر تسلسل کے ساتھ اظہارِ خیال ہوتا ہے۔
مرکزی خیال کے گرد پوری نظم کا تانا بانا بُنا جاتا ہے۔ خیال کا تدریجی ارتقا نظم کی ایک اہم خصوصیت ہے جس کی جھلک طویل نظموں میں واضح طور پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ عام طور پر ہر نظم کا کوئی عنوان ہوتا ہے۔ نظم کے لیے نہ ہیئت کی کوئی قید ہے اور نہ ہی موضوع کی۔ اردو میں رائج تمام ہیئتوں میں نظمیں لکھی جاتی رہی ہیں۔ البتہ ہیئت کے اعتبار سے نظم کی چار قسمیں ہیں: پابند نظم، نظمِ معرّا، آزاد نظم اور نثری نظم۔
وہ نظم جس میں بحر کے استعمال اور قافیوں کی ترتیب میں مقررہ اصولوں کی پابندی کی گئی ہو 'پابند نظم' کہلاتی ہے۔ ابتدائی دور کی بیشتر نظمیں اسی ہیئت میں لکھی گئی ہیں مثلاً 'آدمی نامہ'، 'نئی تہذیب'، 'مناجاتِ بیوہ'، 'ماں کا خواب'، 'رامائن کا ایک سین' اور 'بدلی کا چاند' وغیرہ۔ نظمِ معرّا میں تمام مصرعے ایک ہی بحر میں اور برابر ہوتے ہیں، لیکن اس میں ردیف اور قافیے کی پابندی نہیں ہوتی۔ ن. م. راشد کی نظم 'زادِ سفر'، فیض احمد فیض کی 'تنہائی' اور اختر الایمان کی 'اعتماد' وغیرہ نظمِ معرّا کی مثالیں ہیں۔
آزاد نظم عام طور پر کسی مخصوص بحر میں ہوتی ہے لیکن اس کے مصرعے چھوٹے بڑے ہوتے ہیں۔ آزاد نظم میں ردیف اور قافیہ کی پابندی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر مخدوم کی نظم 'چاند تاروں کا بن' اور ن. م. راشد کی 'زندگی سے ڈرتے ہو' وغیرہ۔
نثری نظم چھوٹی بڑی سطروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں نہ تو ردیف اور قافیہ کی پابندی ہوتی ہے اور نہ ہی بحر اور وزن کی لیکن شاعرانہ حُسن اور موسیقیت ضرور ہوتی ہے۔ جیسے سجاد ظہیر کی نظم 'پگھلا نیلم' اور افضال احمد کی 'چھینی ہوئی تاریخ' وغیرہ۔
استاد کا نوٹ
الف) ہیئت کے اعتبار سے نظم کی چار قسمیں یاد رکھیے: پابند نظم، نظمِ معرّا، آزاد نظم اور نثری نظم۔
ب) نظمِ معرّا اور آزاد نظم کا فرق: معرّا میں سب مصرعے برابر ہوتے ہیں، آزاد نظم میں مصرعے چھوٹے بڑے ہوتے ہیں؛ ردیف قافیہ دونوں میں نہیں ہوتا۔
ج) نثری نظم میں بحر اور وزن بھی نہیں ہوتا، پھر بھی شاعرانہ حُسن اور موسیقیت ضروری ہے۔
پنڈت برج نرائن چکبست (1882 - 1926)
پنڈت برج نرائن چکبست لکھنوی کشمیری پنڈت خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے اجداد کشمیر سے فیض آباد آکر بس گئے تھے۔ چکبست کی پیدائش فیض آباد میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ بعد ازاں والدین کے ساتھ لکھنؤ آگئے اور ساری عمر یہیں رہے۔ لکھنؤ میں ہی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ چکبست پیشے سے وکیل تھے۔ بچپن سے ہی شعر و شاعری سے دل چسپی تھی۔ لکھنؤ کے ماحول کے اثر سے جلد ہی یہ دل چسپی شوق میں بدل گئی۔
چکبست نے روایتی انداز سے شاعری شروع کی اور غزلیں بھی کہیں۔ جلد ہی وہ نظم نگاری کی طرف مائل ہو گئے۔ انھوں نے حب الوطنی اور قومی بیداری کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ ان کی نظموں میں قدرتی مناظر کی عکاسی، بیداریٔ وطن کے جذبات، آزادی کی تڑپ اور دردمندی کے پہلو نمایاں ہیں۔ ان کے کلام میں سلاست اور روانی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے اپنے احباب، بزرگوں اور قومی رہنماؤں پر مرثیے لکھ کر ان کی سیرت کی عمدہ عکاسی کی ہے۔ ان کی نظموں کا مجموعہ 'صبحِ وطن' اور مضامین کا مجموعہ 'مضامینِ چکبستؔ' کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ چکبست مشترکہ تہذیب کے علم بردار تھے۔ 'آصف الدولہ کا امام باڑہ'، 'پھول مالا' اور 'رامائن کا ایک سین' ان کی بہترین نظمیں ہیں۔
سبق 11: رامائن کا ایک سین
رخصت ہوا وہ باپ سے، لے کر خدا کا نام
راہِ وفا کی منزلِ اوّل ہوئی تمام
منظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظام
دامن سے اشک پوچھ کر، دل سے کیا کلام
اظہارِ بے کسی سے ستم ہوگا اور بھی
دیکھا ہمیں اداس تو غم ہوگا اور بھی
دل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نونہال
خاموش ماں کے پاس گیا صورتِ خیال
دیکھا تو ایک در میں ہے بیٹھی وہ خستہ حال
سکتہ سا ہو گیا ہے، یہ ہے شدّتِ ملال
[تصویر: ماں کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا بیٹا، اپنی درسی کتاب میں دیکھیں]
استاد کا نوٹ
الف) اس نظم کا ہر بند چھے مصرعوں کا ہے؛ پہلے چار مصرعے ایک قافیے (نام، تمام، انتظام، کلام) میں اور آخری دو مصرعے الگ قافیے میں ہیں۔
ب) 'نونہال' کا مطلب ہے کم عمر لڑکا (نوجوان بیٹا) اور 'خستہ حال' یعنی بدحال، دکھی۔
ج) 'صورتِ خیال' یعنی خیال کی طرح؛ بیٹا بالکل خاموشی سے ماں کے پاس پہنچا۔
Download NCERT E-Textbook: Class 9 Urdu Chapter 11 Ramayan Ka Ek Scene
Class 9 Urdu Chapter 11 Ramayan Ka Ek Scene Official E-Book
Secure your copy of the NCERT Textbook for Class 9 Urdu Chapter 11 Ramayan Ka Ek Scene. Widely adopted across educational institutions, final question papers map directly to the framework outlined in this chapter.
English Medium NCERT Textbooks for Class 9
Access a full archive of NCERT books in English Medium tailored for Class 9 courses. Units like Chapter 11 Ramayan Ka Ek Scene deliver in-depth concepts and thorough review questions at the section close.
Additional Study Resources for Class 9 Urdu
Built to foster deep conceptual mastery, this manual serves as an ideal study tool. Complement your textbook reading by exploring our professional NCERT Solutions and revision notes online.
FAQs
You can download the latest, teacher-verified PDF for NCERT Class 9 Urdu Jamna Chapter 11 Ramayan Ka Ek Scene PDF Download for free on StudiesToday.com. These digital editions are updated as per 2026-27 session and are optimized for mobile reading.
Yes, our collection of Class 9 Urdu NCERT books follow the 2026 rationalization guidelines. All deleted chapters have been removed and has latest content for you to study.
Downloading chapter-wise PDFs for Class 9 Urdu allows for faster access, saves storage space, and makes it easier to focus in 2026 on specific topics during revision.
NCERT books are the main source for NCERT exams. By reading NCERT Class 9 Urdu Jamna Chapter 11 Ramayan Ka Ek Scene PDF Download line-by-line and practicing its questions, students build strong understanding to get full marks in Urdu.