NCERT Class 9 Urdu Jamna Chapter 06 Mian Naseer-ud-Din PDF Download

Read Chapter 06 Mian Naseer-ud-Din of NCERT Class 9 Urdu

Access the official NCERT textbook for Class 9 Urdu, updated for the 2026-27 academic session. This digital resource provides the foundational knowledge required for exam success and conceptual clarity.

Chapter 06 Mian Naseer-ud-Din PDF Resource

Access the complete PDF for Chapter 06 Mian Naseer-ud-Din below. This focused excerpt allows students to isolate specific topics for thorough review. Cross-reference your textbook exercises with our detailed NCERT Solutions for Class 9 Urdu.

کرشنا سوبتی (1925 - 2019)

کرشنا سوبتی کا اصل نام وی. ایس کرشنا سوبتی ہے۔ وہ ایک مشہور افسانہ نگار، مضمون نگار اور مصنفہ تھیں۔ ان کی تعلیم شملہ اور دہلی میں ہوئی۔ تقسیمِ ہند کے بعد انھوں نے راجستھان کے مہاراجہ تیج سنگھ کے یہاں بطور افسرِ انتظامیہ کام کیا۔ 1980 تک وہ دہلی انتظامیہ کے محکمۂ تعلیمِ بالغان میں ایڈیٹر رہیں۔

کرشنا سوبتی نے 1950 کی دہائی کے آغاز میں افسانے لکھنے شروع کیے اور جلد ہی ادبی دنیا میں اپنی شناخت قائم کر لی۔ ان کا پہلا ناول 'ڈار سے بچھڑی' 1958 میں شائع ہوا جو بہت مقبول ہوا۔ اس کے علاوہ 'مِتّر و مر جانی'، 'یاروں کے یار'، کافی مشہور ہوئے، انھوں نے انسانی قدروں کے زوال، استحصال زدہ طبقے اور خصوصاً عورت اور مرد کے تعلقات کی پیچیدگیوں کو اپنا موضوع بنایا۔

ان کی کہانیوں کے مجموعوں میں 'بادلوں کے گھیرے'، 'سورج مکھی' اور 'اندھیرے' شامل ہیں۔ ناولوں میں 'زندگی نامہ'، 'دل و دانش'، 'اے لڑکی' وغیرہ اہم نام ہیں۔ 'ہم حشمت' ان کی یادداشت ہے۔ انھیں 'گیان پیٹھ ایوارڈ' اور 'ساہتیہ اکادمی ایوارڈ' اعزازات سے نوازا گیا۔ 'میاں نصیر الدین' ان کے ہندی مجموعے 'ہم حشمت' سے لیا گیا ہے۔

استاد کا نوٹ

الف) کرشنا سوبتی کا پہلا ناول 'ڈار سے بچھڑی' (1958) ہے۔
ب) انھیں دو بڑے اعزاز ملے: 'گیان پیٹھ ایوارڈ' اور 'ساہتیہ اکادمی ایوارڈ'۔
ج) یہ سبق ان کی یادداشت 'ہم حشمت' سے لیا گیا ہے، جو اصل میں ہندی میں ہے۔

سبق 6: میاں نصیر الدین

صاحبو! اس روز ہم مٹیا محل کی طرف سے نہ گزرتے تو سیاست، ادب اور فن کے ہزارہا مسیحاؤں کے دھوم دھڑکے میں نان بائیوں کے مسیحا میاں نصیر الدین کو کیسے پہچانتے؟ اور کیسے اٹھاتے لطف ان کے مسیحائی انداز کا!

ہوا یہ کہ ہم ایک دوپہر جامع مسجد سے لگے ہوئے محلّے مٹیا محل کے گڑھیّا محلّے کی طرف نکل گئے۔ ایک نہایت معمولی اندھیری سی دکان پر پٹاپٹ آٹے کا ڈھیر گندھتے دیکھ ٹھٹکے۔ سوچا، سوَیّوں کی تیاری ہوگی۔

[تصویر: تنور کے پاس کھڑے میاں نصیر الدین، اپنی درسی کتاب میں دیکھیں]

مگر پوچھنے پر معلوم ہوا خاندانی نان بائی میاں نصیر الدین کی دکان پر کھڑے ہیں۔ میاں مشہور رہیں، چھپّن قسم کی روٹیاں پکانے کے لیے۔

ہم نے جو اندر جھانکا تو پایا کہ میاں چارپائی پر بیٹھے مزہ لے رہے ہیں۔ موسموں کی مار سے پکا چہرہ، آنکھوں میں کائیاں، بھولا پن اور پیشانی پر منجھے ہوئے کاریگر کے تیور۔

ہمیں گاہک سمجھ کر میاں نے نظر اٹھائی — "فرمائیے!"

جھجک کر کہا: "آپ سے کچھ سوال پوچھنے تھے۔ آپ کو وقت ہو تو..."

میاں نصیر الدین نے پنج ہزاری انداز میں سر ہلایا: "نکال لیں گے وقت تھوڑا۔ مگر یہ تو کہیے کہ آپ کو پوچھنا کیا ہے؟"

پھر گھور کر دیکھا اور بولے: "میاں! کہیں اخبار نویس تو نہیں ہو؟ یہ تو کھوجیوں کا شوق ہے۔ ہاں! کام کاجی آدمی کو اس سے کیا غرض؟ خیر! آپ نے یہاں تک آنے کی زحمت اٹھائی ہی ہے تو پوچھیے، کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟"

"پوچھنا یہ تھا کہ قسم قسم کی روٹیاں پکانے کا علم آپ نے کہاں سے حاصل کیا؟"

میاں نصیر الدین نے آنکھوں کے ڈھیلے ہم پر جما دیے۔ پھر تریر کر بولے: "کیا مطلب؟ بھلا بتائیے صاحب، نان بائی علم حاصل کرنے کے لیے کہیں اور جائے گا؟ کیا نگینہ ساز کے پاس؟ کیا آئینہ ساز کے پاس؟ کیا مینا ساز کے پاس؟ کیا فرمایا صاحب؟ یہ تو ہمارا خاندانی پیشہ ٹھہرا۔ ہاں علم کی بات پوچھیے تو جو کچھ بھی سیکھا اپنے والد استاد سے ہی۔ مطلب یہ کہ ہم گھر سے نہ نکلے کہ کوئی پیشہ اختیار کریں گے۔ جو باپ دادا کا ہنر تھا وہی ان سے پایا اور والد مرحوم کے اُٹھ جانے پر آ بیٹھے انھیں کے ٹھیے پر۔"

"آپ کے والد...؟"

میاں نصیر الدین کی آنکھیں پل بھر کے لیے کسی بھٹی میں گم ہو گئیں۔ لگا گہری سوچ میں ہیں۔ پھر سر ہلایا: "کیا آنکھوں کے سامنے چہرہ زندہ ہو گیا! ہاں! ہمارے والد صاحب مشہور تھے، میاں برکت شاہی نان بائی گڑھیّا والے کے نام سے اور ان کے والد یعنی کہ ہمارے دادا صاحب تھے اعلیٰ نان بائی میاں کلّن!"

استاد کا نوٹ

الف) میاں نصیر الدین کی تین نسلیں یاد رکھیے: دادا میاں کلّن، والد میاں برکت شاہی اور خود میاں نصیر الدین۔
ب) مصنفہ نے میاں کے چہرے کا نقشہ کچھ الفاظ میں کھینچا ہے: 'موسموں کی مار سے پکا چہرہ، آنکھوں میں کائیاں، بھولا پن'؛ ایسی تصویر کشی کو خاکہ نگاری کہتے ہیں۔
ج) 'ٹھیا' سے مراد وہ جگہ ہے جہاں کاریگر بیٹھ کر کام کرتا ہے۔

Chapter 06 Mian Naseer-ud-Din Digital Textbook & Resources for Class 9 Urdu

Chapter Textbook PDF for Class 9 Urdu

Download the certified NCERT Textbook for Class 9 Urdu Chapter 06 Mian Naseer-ud-Din. Educational authorities and instructors recommend this e-textbook as the foundational reference for all terminal tests and school assessments.

Digital E-Book Collection for Class 9 Urdu

Browse our comprehensive suite of NCERT books in English Medium designed for Class 9 students, offering clear conceptual breakdowns and concluding practice problems.

Complete Your Chapter Preparation

Elevate your study routine by reviewing our comprehensive NCERT Solutions and revision notes available on our platform free of charge.

FAQs

Where can I download the latest NCERT Class 9 Urdu Jamna Chapter 06 Mian Naseer-ud-Din PDF Download in PDF for 2026-27?

You can download the latest, teacher-verified PDF for NCERT Class 9 Urdu Jamna Chapter 06 Mian Naseer-ud-Din PDF Download for free on StudiesToday.com. These digital editions are updated as per 2026-27 session and are optimized for mobile reading.

Does this Urdu book follow the latest NCERT rationalized syllabus?

Yes, our collection of Class 9 Urdu NCERT books follow the 2026 rationalization guidelines. All deleted chapters have been removed and has latest content for you to study.

Why is it better to download NCERT Class 9 Urdu Jamna Chapter 06 Mian Naseer-ud-Din PDF Download chapter-wise?

Downloading chapter-wise PDFs for Class 9 Urdu allows for faster access, saves storage space, and makes it easier to focus in 2026 on specific topics during revision.

Are these NCERT books for Class 9 Urdu sufficient for scoring 100%?

NCERT books are the main source for NCERT exams. By reading NCERT Class 9 Urdu Jamna Chapter 06 Mian Naseer-ud-Din PDF Download line-by-line and practicing its questions, students build strong understanding to get full marks in Urdu.