NCERT Class 9 Urdu Jamna Chapter 03 Ghalib Ke Khutoot PDF Download

Class 9 Urdu Chapter 03 Ghalib Ke Khutoot: NCERT Study Material

Explore the complete NCERT textbook for Class 9 Urdu. Tailored for the 2026-27 curriculum, this resource breaks down complex topics to help students prepare effectively for school examinations.

Read and Download Chapter 03 Ghalib Ke Khutoot

Access the complete PDF for Chapter 03 Ghalib Ke Khutoot below. This focused excerpt allows students to isolate specific topics for thorough review. Cross-reference your textbook exercises with our detailed NCERT Solutions for Class 9 Urdu.

مکتوب

مکتوب، مراسلہ اور خط مترادف الفاظ ہیں۔ خط پیغام رسانی کا اہم اور قدیم ذریعہ ہے۔ مکتوب نگار دور فاصلے پر بیٹھے ایک شخص کو خط لکھ کر اپنے جذبات اور خیالات کی ترسیل کرتا ہے۔ خط سے مکتوب نگار اور مکتوب الیہ دونوں کی شخصیت سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔

مکتوب کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ادبی، ذاتی، سوانحی، تاریخی اور تجارتی وغیرہ۔ اردو میں جدید مکتوب نگاری کا آغاز غالب کے خطوط سے ہوتا ہے۔ ان خطوط سے ہمیں اس عہد کے تاریخی، سیاسی اور سماجی حالات سے واقفیت ہوتی ہے۔

بعض اہلِ قلم نے مکتوب نگاری کو ایک لطیف فن قرار دیا ہے۔ ایسے خطوط بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں اعلیٰ تخلیقی ادب کی خصوصیات پائی جاتی ہیں، ان خطوط کا مطالعہ اور بھی دل چسپ ہو جاتا ہے۔

مکتوب نگاری شخصی اظہار کی ایک شکل ہے۔ مکتوب نگار کا مخاطب کوئی ایک شخص ہوتا ہے جب کہ ادب کی دوسری اصناف میں ایک ساتھ کئی لوگ مخاطب ہو سکتے ہیں۔ کچھ ادیبوں نے ایسے عمدہ خطوط لکھے کہ اب مکتوب نگاری کو ایک ادبی صنف کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔

مکتوب نگار کا مخاطب کوئی بھی ہو، اگر مکتوب نگار کی تحریر میں کشش ہو تو خط ہر پڑھنے والے کے لیے دل چسپ ہو جاتا ہے اور ایسے خطوط ادب پارے کے طور پر پڑھے جاتے ہیں۔ اردو نثر کی روایت میں مرزا غالبؔ، علامہ شبلی نعمانیؔ، مہدی افادیؔ، چودھری محمد علی رودولوی، سید سلیمان ندوی، ابوالکلام آزادؔ، رشید احمد صدیقیؔ، صفیہ اختر اور قرۃ العین حیدر وغیرہ کے خطوط نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔

استاد کا نوٹ

الف) مکتوب، مراسلہ اور خط ایک ہی معنی کے الفاظ ہیں؛ خط لکھنے والا مکتوب نگار اور جسے لکھا جائے وہ مکتوب الیہ کہلاتا ہے۔
ب) مکتوب کی قسمیں یاد رکھیے: ادبی، ذاتی، سوانحی، تاریخی اور تجارتی۔
ج) اردو میں جدید مکتوب نگاری کا آغاز غالب کے خطوط سے مانا جاتا ہے۔

مرزا غالب (1797 - 1869)

مرزا اسد اللہ خاں غالب کی ولادت آگرہ میں ہوئی۔ چچا نصر اللہ بیگ نے ان کی پرورش کی۔ شادی کے بعد غالب دہلی آگئے۔ یہاں کے علمی اور ادبی ماحول میں ان کا شعری ذوق پروان چڑھا۔ غالب نظم اور نثر دونوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ جو بلند مرتبہ انھیں شاعری میں حاصل ہوا وہی رتبہ انھیں نثر میں بھی ملا۔ ان کی نثر کا عمدہ نمونہ ان کے خطوط ہیں۔

غالب کے خطوط کے مجموعے 'عودِ ہندی' اور 'اردوئے معلیٰ' کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔ انھوں نے خط کو بات چیت کی زبان سے قریب تر کر کے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا۔ ان کے خطوط کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے گویا کہ دو لوگ آپس میں بیٹھے گفتگو کر رہے ہوں۔ غالب کے اردو خطوط میں ان کی اپنی زندگی اور زمانے کی دل چسپ تفصیلات سمٹ آئی ہیں۔ خاص طور پر 1857 کے آس پاس کا ماحول غالب کے خطوط میں جس تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے، اُس کے پیشِ نظر یہ خطوط ایک تاریخی مواد کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ انھوں نے جو اسلوب اختیار کیا تھا اس کی نقل کسی سے بھی ممکن نہ ہو سکی۔ ان کے خطوط میں واقعہ نگاری، منظر نگاری اور جذبات نگاری کی غیر معمولی مثالیں موجود ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح کا عنصر بھی غالب کی نثر میں ایک خاص حیثیت رکھتا ہے۔

سبق 3: غالب کے خطوط

(1) منشی ہرگوپال تفتہ کے نام

کیوں صاحب!
روٹھے ہی رہو گے یا کبھی منو گے بھی؟ اور اگر کسی طرح نہیں منتے تو روٹھنے کی وجہ تو لکھو۔ میں اس تنہائی میں صرف خطوں کے بھروسے جیتا ہوں۔ یعنی جس کا خط آیا، میں نے جانا کہ وہ شخص تشریف لایا۔ خدا کا احسان ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا، جو اطراف و جوانب سے دو چار خط نہیں آ رہتے ہوں بلکہ ایسا بھی دن ہوتا ہے کہ دو دو بار ڈاک کا ہرکارہ خط لاتا ہے۔ ایک دو صبح کو اور ایک دو شام کو۔ میری دل لگی ہو جاتی ہے۔ دن اُن کے پڑھنے اور جواب لکھنے میں گزر جاتا ہے۔ یہ کیا سبب دس دس بارہ بارہ دن سے تمھارا خط نہیں آیا۔ یعنی تم نہیں آئے۔ خط لکھو صاحب۔ نہ لکھنے کی وجہ لکھو، آدھ آنے میں بخل نہ کرو، ایسا ہی ہے تو بیرنگ بھیجو۔

سوموار، 27 دسمبر 1858
غالب

استاد کا نوٹ

الف) غالب کے خطوط کے دو مجموعے ہیں: 'عودِ ہندی' اور 'اردوئے معلیٰ'۔
ب) اس خط میں غالب نے جملے 'یعنی جس کا خط آیا، میں نے جانا کہ وہ شخص تشریف لایا' سے مراسلے کو مکالمہ بنانے کی مثال دی ہے؛ یہی ان کے اسلوب کی پہچان ہے۔
ج) 'بیرنگ' سے مراد وہ خط ہے جس کا محصول (ٹکٹ) پانے والا ادا کرے۔

Download NCERT E-Textbook: Class 9 Urdu Chapter 03 Ghalib Ke Khutoot

Chapter Textbook PDF for Class 9 Urdu

Access the official NCERT Textbook for Class 9 Urdu Chapter 03 Ghalib Ke Khutoot, updated for the current academic session. Recognized as the core reading material across schools nationwide, board evaluations rely entirely on this syllabus.

Digital E-Book Collection for Class 9 Urdu

Browse our comprehensive suite of NCERT books in English Medium designed for Class 9 students, offering clear conceptual breakdowns and concluding practice problems.

Complete Your Chapter Preparation

Built to foster deep conceptual mastery, this manual serves as an ideal study tool. Complement your textbook reading by exploring our professional NCERT Solutions and revision notes online.

FAQs

Where can I download the latest NCERT Class 9 Urdu Jamna Chapter 03 Ghalib Ke Khutoot PDF Download in PDF for 2026-27?

You can download the latest, teacher-verified PDF for NCERT Class 9 Urdu Jamna Chapter 03 Ghalib Ke Khutoot PDF Download for free on StudiesToday.com. These digital editions are updated as per 2026-27 session and are optimized for mobile reading.

Does this Urdu book follow the latest NCERT rationalized syllabus?

Yes, our collection of Class 9 Urdu NCERT books follow the 2026 rationalization guidelines. All deleted chapters have been removed and has latest content for you to study.

Why is it better to download NCERT Class 9 Urdu Jamna Chapter 03 Ghalib Ke Khutoot PDF Download chapter-wise?

Downloading chapter-wise PDFs for Class 9 Urdu allows for faster access, saves storage space, and makes it easier to focus in 2026 on specific topics during revision.

Are these NCERT books for Class 9 Urdu sufficient for scoring 100%?

NCERT books are the main source for NCERT exams. By reading NCERT Class 9 Urdu Jamna Chapter 03 Ghalib Ke Khutoot PDF Download line-by-line and practicing its questions, students build strong understanding to get full marks in Urdu.