CBSE Class 10 Urdu Course A Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download

Official CBSE Practice Papers for Class 10 Urdu Course A

Review targeted exam resources with the CBSE Class 10 Urdu Course A Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download. Built according to official CBSE standards for the 2026-27 academic year, these downloadable Class 10 Urdu Course A sample papers support effective revision and performance tracking.

Solved Model Papers for Urdu Course A

View or download the dedicated CBSE Class 10 Urdu Course A Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download resource below. Engaging with these sample papers under timed conditions ensures continuous academic progress and mastery of the 2026-27 exam format.

Section A (حصہ الف)

 

1. مندرجہ ذیل درسی اقتباس کو غور سے پڑھیے اور اس سے متعلق سوالوں کے جواب لکھیے۔ [5 Marks]

اردو پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ مخلوط زبان ہے۔ اس سے تو انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ ٹھیٹ ہندوستانی زبان ہے۔ اب رہی یہ بات کہ یہ مخلوط ہے تو مخلوط ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ ایک اعتبار سے خوبی ہے۔ یوں تو دنیا میں کوئی زبان خالص نہیں۔ ہر زبان نے کسی نہ کسی زمانے میں دوسری زبانوں سے کچھ نہ کچھ لفظ لئے ہیں۔ یہاں تک کہ جو زبانیں مقدس کہلاتی ہیں وہ بھی اچھوتی نہیں۔ مخلوط زبان میں ہوتا یہ ہے کہ غیر زبان جو کسی قوم کو سیکھنی پڑتی ہے، مخلوط نہیں ہوئی بلکہ اس کی اپنی زبان غیر زبان کے میل سے مخلوط ہو جاتی ہے۔ بعینہ یہی حال مسلمانوں کے آنے کے بعد ہوا، فارسی مخلوط نہیں ہوئی بلکہ مقامی زبان فارسی سے مخلوط ہو کر ایک نئی زبان بن گئی۔ یہ بھی ایک مسلم ثبوت ہے کہ غیر زبان کے لفظ جو کسی زبان میں داخل ہو جاتے ہیں یا کسی زبان کو مخلوط کرتے ہیں تو اصلی زبان کے صرف ونحو کو ہاتھ نہیں لگاتے۔

 

(i) مندرجہ بالا اقتباس کس سبق سے لیا گیا ہے؟ [1 Mark]
(A) بھولا
(B) نیا قانون
(C) مخلوط زبان
(D) آزمائش

Answer: (C) مخلوط زبان

Teacher's Note:
a) اقتباس کا پورا موضوع اردو کا مخلوط زبان ہونا ہے، اسی سے سبق کا نام پہچانیے۔
b) بھولا اور نیا قانون افسانے ہیں، یہ اقتباس ان سے نہیں ہے۔

 

(ii) مندرجہ بالا اقتباس کے مصنف کون ہیں؟ [1 Mark]
(A) مولوی عبدالحق
(B) الطاف حسین حالی
(C) محمد مجیب
(D) سر سید احمد خان

Answer: (A) مولوی عبدالحق

Teacher's Note:
a) سبق "مخلوط زبان" مولوی عبدالحق کا لکھا ہوا ہے۔
b) درسی اسباق کے ساتھ ان کے مصنفین کے نام یاد رکھیے۔

 

(iii) اردو پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ............ زبان ہے۔(خالی جگہ پر کیجیے)۔ [1 Mark]

Answer: مخلوط

Teacher's Note:
a) جواب اقتباس کے پہلے جملے میں موجود ہے۔
b) خالی جگہ میں صرف ایک لفظ "مخلوط" لکھیے۔

 

(iv) دنیا میں کون سی زبان خالص ہے؟ (ایک جملے میں جواب لکھیے) [1 Mark]

Answer: دنیا میں کوئی زبان خالص نہیں ہے۔

Teacher's Note:
a) یہ سوال ذرا الجھاتا ہے، کیوں کہ اقتباس کے مطابق کوئی زبان خالص نہیں۔
b) کسی زبان کا نام نہ لکھیے، پورا جملہ لکھیے۔

 

(v) مقامی زبان فارسی سے مخلوط ہو کر کیا بن جاتی ہے؟(ایک جملے میں جواب لکھیے) [1 Mark]

Answer: مقامی زبان فارسی سے مخلوط ہو کر ایک نئی زبان بن جاتی ہے۔

Teacher's Note:
a) اہم لفظ "ایک نئی زبان" ہے۔
b) یاد رکھیے کہ فارسی مخلوط نہیں ہوئی بلکہ مقامی زبان مخلوط ہوئی۔

 

2. مندرجہ ذیل غیر درسی اقتباس کو غور سے پڑھیے اور اس سے متعلق سوالوں کے متبادل جواب لکھیے۔ [5 Marks]

ہوا، پانی اور غذا ہماری صحت اور زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ بے احتیاطی اور بے قاعدگی سے ان چیزوں میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔ کھانے کی چیزیں اگر کھلی چھوڑ دی جائیں تو مکھیاں، گرد اور بیماری پھیلانے والے جراثیم ان کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ گرد و غبار، کارخانوں سے نکلنے والا دھواں اور مہلک گیسیں ہوا میں آلودگی پیدا کر دیتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پینے کے پانی کے ذخیرے کس طرح آلود ہوتے ہیں۔ باؤلیوں، تالاوں اور نہروں کے پانی میں کپڑے دھوئے جاتے ہیں، مویشیوں کو نہلایا جاتا ہے، انسان بھی وہیں نہاتے ہیں۔ اس طرح انسانوں اور جانوروں کی ساری گندگیاں باؤلیوں اور تالابوں میں داخل ہو جاتی ہیں اور پانی آلودہ ہو جاتا ہے۔ نالیوں کی گندگی اور کوڑا کرکٹ بھی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ کارخانوں سے نکلنے والا میل کچیل اور کیڑے مار دواؤں کا چھڑکاؤ بھی پانی کی آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس قسم کی گندگیاں پانی میں آکسیجن کی مقدار کم کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے مچھلیاں مر جاتی ہیں۔

 

(i) گرد و غبار، کارخانوں سے نکلنے والا دھواں، ہوا میں کیا پیدا کر دیتے ہیں؟ [1 Mark]
(A) آلودگی
(B) سادگی
(C) بے قاعدگی
(D) بے احتیاطی

Answer: (A) آلودگی

Teacher's Note:
a) اقتباس میں لکھا ہے کہ یہ چیزیں ہوا میں آلودگی پیدا کر دیتی ہیں۔
b) بے قاعدگی اور بے احتیاطی خرابی کے اسباب ہیں، نتیجہ نہیں۔

 

(ii) نالیوں کی گندگی اور کوڑا کرکٹ کس چیز کا سبب بنتا ہے؟ [1 Mark]
(A) زندگی کا
(B) بیماریوں کا
(C) نہانے کا
(D) صحت کا

Answer: (B) بیماریوں کا

Teacher's Note:
a) جواب اقتباس کے جملے "بیماریوں کا سبب بنتا ہے" میں موجود ہے۔
b) "صحت کا" الٹا مطلب دیتا ہے، اس سے بچیے۔

 

(iii) بے احتیاطی اور بے قاعدگی سے ہوا، پانی اور غذا میں کیا پیدا ہو جاتا ہے؟ (ایک لفظ میں جواب لکھیے۔) [1 Mark]

Answer: خرابی

Teacher's Note:
a) جواب اقتباس کے دوسرے جملے میں ہے۔
b) سوال ایک لفظ مانگتا ہے، اس لیے صرف "خرابی" لکھیے۔

 

(iv) کھانے کی چیزیں اگر کھلی چھوڑ دی جائیں تو کیا ہوگا؟(ایک جملے میں جواب دیجیے۔) [1 Mark]

Answer: کھانے کی چیزیں اگر کھلی چھوڑ دی جائیں تو مکھیاں، گرد اور بیماری پھیلانے والے جراثیم انہیں آلودہ کر دیتے ہیں۔

Teacher's Note:
a) اہم لفظ "آلودہ" ہے۔
b) گرد اور جراثیم دونوں کا ذکر کیجیے۔

 

(v) پانی میں آکسیجن کی مقدار کم ہونے سے کیا ہوتا ہے؟(ایک جملے میں جواب دیجیے؟) [1 Mark]

Answer: پانی میں آکسیجن کی مقدار کم ہونے سے مچھلیاں مر جاتی ہیں۔

Teacher's Note:
a) جواب اقتباس کے آخری جملے میں ہے۔
b) جواب پورے جملے میں لکھیے۔

 

3. مندرجہ ذیل درسی شعری حصہ کو غور سے پڑھیے اور اس سے متعلق دیے گئے سوالوں کے جواب لکھیے۔ [5 Marks]

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے
پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے
کم ہوں گے اس بساط پہ ہم جیسے بدقمار
جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے
ہو عمر خضر بھی تو کہیں گے بوقت مرگ
ہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے
دنیا نے کس کا راہ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یوں ہی جب تک چلی چلے

 

(i) درج بالا اشعار کا تعلق کس صنف شاعری سے ہے؟ [1 Mark]
(A) نظم
(B) غزل
(C) رباعی
(D) قصیدہ

Answer: (B) غزل

Teacher's Note:
a) پہلے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہیں اور ہر شعر "چلے" پر ختم ہوتا ہے، یہ غزل کی پہچان ہے۔
b) رباعی میں صرف چار مصرعے ہوتے ہیں، اس لیے یہ رباعی نہیں۔

 

(ii) درج بالا اشعار کے شاعر کا نام کیا ہے؟ [1 Mark]
(A) فراق گورکھپوری
(B) اکبرالہ آبادی
(C) یاس یگانہ چنگیزی
(D) شیخ ابراہیم ذوق

Answer: (D) شیخ ابراہیم ذوق

Teacher's Note:
a) یہ غزل شیخ ابراہیم ذوق کی ہے۔
b) درسی غزلوں کے مطلعے ان کے شاعروں کے ناموں کے ساتھ یاد کیجیے۔

 

(iii) یہاں لفظ "قضا" کے کیا معنی ہیں؟(ایک لفظ میں جواب لکھیے) [1 Mark]

Answer: موت

Teacher's Note:
a) مصرعے میں "حیات" کے مقابلے میں "قضا" آیا ہے، اس لیے اس کے معنی موت ہیں۔
b) یہاں "قضا" کو نماز کی قضا کے معنی میں نہ لیجیے۔

 

(iv) اگر عمر خضر بھی مل جائے تو موت کے وقت کیا کہیں گے؟(ایک جملے میں جواب دیجیے۔) [1 Mark]

Answer: اگر عمرِ خضر بھی مل جائے تو موت کے وقت یہی کہیں گے کہ ہم کیا رہے یہاں، ابھی آئے ابھی چلے۔

Teacher's Note:
a) جواب چوتھے شعر کے دوسرے مصرعے میں ہے۔
b) "بوقت مرگ" کا مطلب موت کے وقت ہے۔

 

(v) شاعر دنیا سے دل نہ لگانے کو کیوں بہتر سمجھتا ہے؟(ایک حملے ہیں جواب دیجیے۔) [1 Mark]

Answer: شاعر دنیا سے دل نہ لگانے کو بہتر سمجھتا ہے کیوں کہ دنیا سے دل لگانے میں برائی ہی برائی ہے۔

Teacher's Note:
a) یہ بات دوسرے شعر سے متعلق ہے۔
b) جواب "کیوں کہ" سے وجہ بتاتے ہوئے ایک جملے میں لکھیے۔

 

4. مندرجہ ذیل غیر درسی شعری حصہ کو غور سے پڑھیے اور اس سے متعلق دئے گئے سوالوں جواب لکھئے۔ [5 Marks]

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یارب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میری
دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو
آزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروں
دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو
لذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میں
چشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو
گل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا
ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہو

 

(i) شاعر کس چیز سے اکتا گیا ہے؟ [1 Mark]
(A) محفلوں سے
(B) گھومنے سے
(C) گانے سے
(D) کام کرنے سے

Answer: (A) محفلوں سے

Teacher's Note:
a) پہلے مصرعے میں ہے: "دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں"۔
b) باقی متبادل اشعار میں کہیں نہیں آئے۔

 

(ii) شاعر کس چیز سے بھاگتا ہے؟ [1 Mark]
(A) کام سے
(B) گھر سے
(C) شورش سے
(D) پڑھائی سے

Answer: (C) شورش سے

Teacher's Note:
a) دوسرے شعر میں ہے: "شورش سے بھاگتا ہوں"۔
b) شورش کا مطلب شور اور ہنگامہ ہے۔

 

(iii) چشمے کی شورشوں میں کیا بج رہا ہے؟ایک لفظ میں جواب دیجیے۔ [1 Mark]

Answer: باجا

Teacher's Note:
a) جواب پانچویں شعر کے دوسرے مصرعے میں ہے۔
b) صرف ایک لفظ لکھیے۔

 

(iv) شاعر کس چیز سے آزاد ہونا چاہتا ہے؟(ایک جملے میں جواب لکھیے)۔ [1 Mark]

Answer: شاعر فکر سے آزاد ہونا چاہتا ہے۔

Teacher's Note:
a) چوتھے شعر میں ہے: "آزاد فکر سے ہوں"۔
b) جواب پورے جملے میں لکھیے۔

 

(v) گل کی کلی چٹک کر کیا دے رہی ہے؟(ایک جملے میں جواب لکھیے)۔ [1 Mark]

Answer: گل کی کلی چٹک کر کسی کا پیغام دے رہی ہے۔

Teacher's Note:
a) جواب آخری شعر کے پہلے مصرعے میں ہے۔
b) اہم لفظ "پیغام" ہے۔

 

Section B (حصہ ب)

 

5. درج ذیل عنوانات میں سے کسی ایک پر 250 سے 300 الفاظ پر مشتمل مضمون لکھیے۔ [10 Marks]
(i) میرا پسندیدہ شاعر
(ii) قومی یکجہتی
(iii) ٹیلی ویژن کے فائدے اور نقصان
(iv) بے روزگاری

Answer:
قومی یکجہتی
تمہید: قومی یکجہتی کا مطلب ہے کہ ایک ملک میں رہنے والے سبھی لوگ مذہب، زبان، ذات اور علاقے کے فرق کے باوجود ایک قوم کی طرح مل جل کر رہیں۔ ہمارا ملک ہندوستان بہت بڑا ملک ہے جس میں طرح طرح کے مذاہب کے ماننے والے اور الگ الگ زبانیں بولنے والے لوگ رہتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے ملک کے لیے قومی یکجہتی بے حد ضروری ہے۔
نفسِ مضمون: ہندوستان کی سب سے بڑی خوبی "کثرت میں وحدت" ہے۔ یہاں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دوسرے مذاہب کے لوگ صدیوں سے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں کام آتے ہیں۔ جنگِ آزادی میں بھی ہر مذہب اور ہر علاقے کے لوگوں نے مل کر حصہ لیا اور ملک کو آزاد کرایا۔ یہ قومی یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
جب کسی قوم کے لوگ متحد ہوتے ہیں تو وہ قوم ترقی کرتی ہے۔ آپسی بھائی چارے سے ملک میں امن قائم رہتا ہے اور امن کے ماحول میں تعلیم، تجارت اور صنعت آگے بڑھتی ہے۔ اس کے برعکس اگر لوگ مذہب، زبان یا علاقے کے نام پر آپس میں لڑنے لگیں تو ملک کمزور ہو جاتا ہے اور دشمن اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ فرقہ پرستی، علاقہ پرستی اور تنگ نظری قومی یکجہتی کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے میں تعلیم کا بڑا حصہ ہے۔ اسکولوں میں بچوں کو شروع سے ہی سب کا احترام کرنا سکھانا چاہیے۔ ادیبوں، شاعروں اور ذرائع ابلاغ کو بھی محبت اور بھائی چارے کا پیغام عام کرنا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کی زبان، رسم و رواج اور تہذیب کو سمجھنے اور ان کی قدر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اختتام: قومی یکجہتی ہمارے ملک کی طاقت ہے۔ ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ نفرت پھیلانے والی باتوں سے دور رہے اور محبت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دے۔ جب ہم سب ایک ہو کر رہیں گے تبھی ہمارا ملک ترقی کی راہ پر آگے بڑھے گا اور دنیا میں اس کا نام روشن ہوگا۔

Teacher's Note:
a) نمبروں کی تقسیم: تمہید/تعارف 1، نفسِ مضمون 6، زبان و بیان 2 اور اختتام/نتیجہ 1 نمبر۔
b) مضمون کو تمہید، نفسِ مضمون اور اختتام میں تقسیم کیجیے اور 250 سے 300 الفاظ کی حد کا خیال رکھیے۔
c) صاف ستھری زبان اور صحیح املا سے زبان و بیان کے پورے نمبر ملتے ہیں۔

 

6. اپنے پرنسپل کے نام درخواست لکھ کر اپنی جماعت کو سائنس میوزیم لے جانے کی اجازت لیجیے۔ [4 Marks]

Answer:
بخدمت جناب پرنسپل صاحب،
امتحان ہال،
الف ب ج اسکول، شہر
تاریخ: 10 مارچ 2027ء
موضوع: جماعت کو سائنس میوزیم لے جانے کی اجازت کے لیے درخواست
جنابِ عالی!
مؤدبانہ گزارش ہے کہ میں آپ کے اسکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ ہماری جماعت کے سبھی طلبا سائنس میوزیم دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہاں ہمیں سائنس کے بہت سے آلات اور تجربات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا، جس سے ہماری معلومات میں اضافہ ہوگا اور درسی اسباق بھی اچھی طرح سمجھ میں آئیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ ہفتے کسی دن ہماری سائنس کی استانی کی نگرانی میں ہمیں وہاں لے جایا جائے۔ سبھی طلبا اپنے والدین کی اجازت بھی لے آئیں گے۔
لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ ہماری جماعت کو سائنس میوزیم لے جانے کی اجازت عطا فرمائیں۔ ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے۔
آپ کا فرماں بردار شاگرد
الف ب ج
جماعت دہم

Teacher's Note:
a) خاکے (عہدہ، پتہ، القاب و آداب، موضوع، تاریخ، اختتام) کے 2 نمبر اور نفسِ مضمون کے 2 نمبر ہیں۔
b) موضوع کی سطر اور تاریخ لکھنا نہ بھولیے۔
c) درخواست میں مؤدبانہ زبان استعمال کیجیے۔

OR / یا

اپنی بڑی بہن کو خط لکھ کر اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں بتائیے۔ [4 Marks]

Answer:
امتحان ہال،
شہر
تاریخ: 10 مارچ 2027ء
پیاری باجی،
السلام علیکم!
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گی۔ میں بھی یہاں خیریت سے ہوں۔ آپ نے اپنے پچھلے خط میں میری پڑھائی کے بارے میں پوچھا تھا، اس لیے آج میں آپ کو اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں لکھ رہی ہوں۔ اس سال میں دسویں جماعت میں ہوں اور بورڈ کے امتحان کی تیاری کر رہی ہوں۔ میں روزانہ صبح جلدی اٹھ کر پڑھائی کرتی ہوں اور اسکول سے آنے کے بعد اپنا گھر کا کام پورا کرتی ہوں۔ حال ہی میں اسکول میں اردو تقریری مقابلہ ہوا جس میں مجھے پہلا انعام ملا۔ میں اسکول کی لائبریری سے کہانیوں اور شاعری کی کتابیں بھی لے کر پڑھتی ہوں۔ ریاضی اور سائنس کے لیے میں نے ایک ٹائم ٹیبل بنایا ہے اور اسی کے مطابق پڑھتی ہوں۔
امی ابو آپ کو بہت یاد کرتے ہیں۔ اپنی خیریت کی اطلاع دیتی رہیے۔
آپ کی پیاری بہن
الف ب ج

Teacher's Note:
a) خط میں پتہ، تاریخ، القاب و آداب، نفسِ مضمون اور اختتام سب ضروری ہیں۔
b) بڑی بہن کے لیے "پیاری باجی" جیسے القاب اور ادب والی زبان استعمال کیجیے۔
c) نفسِ مضمون صرف تعلیمی سرگرمیوں پر مرکوز رکھیے۔

 

7. افسانہ "بھولا" کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔ [4 Marks]

Answer:
1. "بھولا" راجندر سنگھ بیدی کے افسانے کا مرکزی کردار ہے۔ وہ ایک معصوم اور ذہین بچہ ہے جو اپنے بوڑھے دادا اور بیوہ ماں کے ساتھ رہتا ہے اور گھر کے حالات کو بخوبی سمجھتا ہے۔
2. کہیں اس کی شرارت ظاہر ہوتی ہے تو کہیں اس کا ضدی پن۔ دوسرے بچوں کی طرح وہ بھی کہانیاں سننے کا شوقین ہے۔ وہ گیتا صرف اس لیے پسند کرتا ہے کہ گیتا کے ادھیائے کے آخر میں مہاتم سن کر وہ خوش ہو جاتا ہے۔
3. ایک دن وہ اپنے دادا سے دن میں کہانی سننے کی ضد کرتا ہے تو دادا بہانا بناتے ہیں کہ دن میں کہانی سننے سے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں۔ پھر بھی وہ ضد کر کے کہانی سن لیتا ہے۔
4. مگر اس کے دل میں یہ ڈر بیٹھ جاتا ہے کہ کہیں اس کے ماموں ہی راستہ نہ بھول جائیں۔ اس لیے وہ اندھیری رات میں لالٹین لے کر اپنے ماموں کو ڈھونڈنے نکل جاتا ہے۔

Teacher's Note:
a) مصنف کا نام (راجندر سنگھ بیدی) اور بھولا کا گھرانا (دادا اور بیوہ ماں) ضرور لکھیے۔
b) دن میں کہانی سننے اور مسافر کے راستہ بھولنے والی بات افسانے کا اہم موڑ ہے۔
c) خلاصہ لالٹین لے کر ماموں کو ڈھونڈنے پر ختم کیجیے۔

OR / یا

مولوی عبدالحق کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالیے۔ [4 Marks]

Answer:
1. مولوی عبدالحق اردو زبان کے عظیم محقق، نقاد اور مخلص خادم تھے۔ انہیں بجا طور پر بابائے اردو کہا جاتا ہے۔ وہ 20 اگست 1870ء کو ہاپوڑ (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔
2. انہوں نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے وقف کر دی۔ وہ انجمن ترقیٔ اردو کے بانیوں میں شامل تھے اور اس کے ذریعے اردو کی تعلیم و ترقی کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔
3. ان کی اہم تصانیف میں لغتِ کبیرِ اردو، قواعدِ اردو، داستانِ اردو، اردو کی ابتدائی نشوونما اور اردو رسم الخط شامل ہیں۔ انہوں نے اردو ادب پر متعدد تحقیقی و تنقیدی مضامین بھی لکھے جو علمی اہمیت رکھتے ہیں۔
4. تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان چلے گئے اور وہاں بھی اردو کے فروغ کے لیے مسلسل کام کرتے رہے۔ ان کا انتقال 16 اگست 1961ء کو ہوا۔ اردو زبان و ادب ان کی بے مثال خدمات کا ہمیشہ قرض دار رہے گا۔

Teacher's Note:
a) لقب "بابائے اردو" اور انجمن ترقیٔ اردو سے ان کا تعلق ضرور لکھیے۔
b) کم از کم تین تصانیف کے نام لکھیے۔
c) تاریخیں لکھیں تو صحیح لکھیے: پیدائش 1870ء اور وفات 1961ء۔

 

8. نظم " گرمی اور دیہاتی بازار" کا خلاصہ لکھیے۔ [3 Marks]

Answer:
1. نظم "گرمی اور دیہاتی بازار" میں جوشؔ ملیح آبادی نے سخت گرمی کے موسم میں گاؤں کے ایک بازار کی منظر کشی کی ہے۔ بازار میں سخت گرمی ہے، لو چل رہی ہے اور شور و غل اور ہنگامہ برپا ہے۔
2. گرمی سے تمام انسان، مویشی اور چرند پرند سب پریشان ہیں۔ سبزیوں، اناج اور پھلوں کے ڈھیر لگے ہیں، جانور بکنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں اور بچے ماؤں کے کاندھوں پر سر ڈالے ہوئے ہیں۔
3. آسمان پر چیلوں کا غول چکر کاٹ رہا ہے اور سامان پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ یہ سارے مناظر کافی تکلیف دہ ہیں۔

Teacher's Note:
a) شاعر کا نام جوشؔ ملیح آبادی ضرور لکھیے۔
b) لو، شور و غل، جانوروں کی قطار، چیلیں اور مکھیاں جیسے مناظر کا ذکر کیجیے۔
c) آخر میں بتائیے کہ یہ مناظر تکلیف دہ ہیں۔

OR / یا

یاس یگانہ چنگیزی کی غزل گوئی پر مختصراً نوٹ لکھیے۔ [3 Marks]

Answer:
1. یاس یگانہ چنگیزی کے کلام میں قوت اور زور کے ساتھ تلخی بہت تھی۔ ان کی شاعری میں ایک خاص طرح کی انفرادیت کا رنگ حاوی ہے۔
2. وہ بول چال کے ایسے الفاظ بھی، جو ادبی زبان کا حصہ نہیں ہیں، معنی میں تیزی اور تندی لانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کی رباعیاں بھی بہت مشہور ہیں۔
3. ان کے کلام کے مجموعے "آیاتِ وجدانی" اور "گنجینہ" کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کا کلیات اردو کے نامور محقق مشفق خواجہ نے مرتب کر کے شائع کیا ہے۔

Teacher's Note:
a) کلام کی خصوصیات (قوت، زور، تلخی اور انفرادیت) کا ذکر ضروری ہے۔
b) مجموعوں کے نام "آیاتِ وجدانی" اور "گنجینہ" صحیح لکھیے۔

 

9. علی عباس حسینی کے افسانے "آئی-سی-ایس" کا خلاصہ لکھیے۔ [4 Marks]

Answer:
1. وحید گاؤں میں رہنے والے ایک غریب گھر کا بچہ ہے۔ اس کی پرورش کی ذمہ داری ایک مشفق اور مہربان شخص لیتا ہے اور اسے اعلیٰ تعلیم دلاتا ہے۔ نتیجے میں وہ آئی-سی-ایس افسر بن جاتا ہے۔
2. وہ ٹریننگ کے لیے لندن چلا جاتا ہے اور وہیں ایک رئیس کی بیٹی سے شادی کر لیتا ہے۔ واپس آنے پر دہلی میں اس کی تعیناتی ہو جاتی ہے۔
3. اسے خیال آتا ہے کہ اس کے گھر والے دیہاتی اور ان پڑھ ہیں، اس لیے اس کی اعلیٰ تعلیم یافتہ بیوی ان سے مل کر خوش نہیں ہوگی۔ اس لیے وہ گھر والوں کو دہلی آنے سے منع کر دیتا ہے اور خود بھی گاؤں نہیں جاتا۔
4. مگر جب وحید کی ماں اپنی بہو کو خط لکھتی ہے تو بہو ہنسی خوشی گاؤں جانے کو تیار ہو جاتی ہے اور گاؤں آ کر سبھی گھر والوں سے بہت محبت اور خلوص سے ملتی ہے۔ تب وحید کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ بہت شرمندہ ہوتا ہے۔

Teacher's Note:
a) مرکزی کردار وحید کا نام اور اس کا غریب گاؤں کا پس منظر ضرور لکھیے۔
b) افسانے کا اہم موڑ بیوی کا گاؤں جا کر سب سے محبت سے ملنا ہے۔
c) خلاصہ وحید کی شرمندگی پر ختم کیجیے۔

OR / یا

افسانہ "سلطان" میں افسانہ نگار نے کون سی سچائی بیان کی ہے؟ [4 Marks]

Answer:
1. افسانہ "سلطان" میں افسانہ نگار نے یہ سچائی بیان کی ہے کہ جب انسان کے پاس کوئی چیز موجود ہوتی ہے تو وہ اس کی قدر نہیں کرتا، مگر جب وہ اس سے محروم ہو جاتا ہے تب اس کی قدر و قیمت سمجھ میں آتی ہے۔
2. سلطان ایک بے حد غریب گھر کا بچہ ہے جس کا دادا بھیک مانگ کر اس کا پیٹ پالتا ہے۔ دادا نابینا ہے، اس لیے سلطان کو لے کر بھیک مانگنے جاتا ہے۔
3. اسی وجہ سے سلطان اپنے دادا سے ناراض رہتا ہے اور اس کے مرنے کی دعائیں کرتا رہتا ہے۔
4. مگر ایک دن دادا واقعی مر جاتا ہے۔ تب سلطان کو دادا کی کمی محسوس ہوتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ بچوں کے لیے کسی کی سرپرستی کتنی ضروری ہوتی ہے۔

Teacher's Note:
a) جواب کی شروعات سچائی (چیز کی قدر اس کے کھو جانے کے بعد) سے کیجیے۔
b) پھر سلطان اور اس کے نابینا دادا کی کہانی سے اس سچائی کو ثابت کیجیے۔

 

Section C (حصہ ج)

 

10. ‘فعل اور فعل کی اقسام’ کے بارے میں درج ذیل سوالوں کے جواب دیجیے۔ [5 Marks]

 

(i) درج ذیل جملوں کو غور سے پڑھیے اور زمانے کے لحاظ سے فعل کی قسم لکھیے۔ [3 Marks]
(الف) ڈاکٹر مریض کو دیکھ رہا ہے۔
(ب) رضیہ امتحان میں اوّل آئی۔
(ج) رضوان کل لکھنؤ جائے گا۔

Answer:
(الف) فعلِ حال
(ب) فعلِ ماضی
(ج) فعلِ مستقبل

Teacher's Note:
a) "رہا ہے" حال، "آئی" ماضی اور "جائے گا" مستقبل کی علامت ہے۔
b) ہر جملے کا ایک نمبر ہے، اس لیے تینوں کے جواب الگ الگ لکھیے۔

 

(ii) درج ذیل میں سے فعل معروف کی درست تعریف بتائیے: [1 Mark]
(A) وہ فعل جس کا فاعل معلوم ہو۔
(B) وہ فعل جس کا فاعل معلوم نہیں ہو۔
(C) وہ فعل جس کا فاعل چست ہو۔
(D) وہ فعل جس کا فاعل سست ہو۔

Answer: (A) وہ فعل جس کا فاعل معلوم ہو۔

Teacher's Note:
a) معروف یعنی جانا پہچانا، اس لیے اس کا فاعل معلوم ہوتا ہے۔
b) متبادل (B) فعل مجہول کی تعریف ہے۔

 

(iii) درج ذیل میں سے فعل مجہول کی درست مثال چنیے: [1 Mark]
(A) شمیم نے غریبوں میں کھانا تقسیم کیا۔
(B) آج طلبا کو انعامات دیئے گیے۔
(C) ہم نے کھانا کھالیا ہے۔
(D) وہ لوگ دفتر کے کام کر رہے ہیں۔

Answer: (B) آج طلبا کو انعامات دیئے گیے۔

Teacher's Note:
a) اس جملے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انعامات کس نے دیے، اس لیے فاعل نامعلوم ہے۔
b) باقی جملوں میں فاعل (شمیم، ہم، وہ لوگ) موجود ہے، اس لیے وہ فعل معروف ہیں۔

 

11. ‘علمِ بیان اور علمِ بدیع’ سے متعلق درج ذیل سوالوں کے جواب دیجیے۔ [5 Marks]

 

(i) درج ذیل جملے تشبیہ، استعارہ اور تلمیح کی مثالیں ہیں۔ ہر جملے کے بارے میں بتائیے کہ اس میں کون سی صنعت استعمال کی گئی ہے؟ [3 Marks]
(الف) میں نے عامر کی عادتوں پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ فرشتے کی مانند ہے۔
(ب) اپنے بیٹے کی تعریف کرتے ہوئے اس نے کہا ‘میرا بیٹا رستم ہے’۔
(ج) اُس سے بات کرنے کے لیے کوہِ طور پر جانے کی ضرورت نہیں۔

Answer:
(الف) تشبیہ
(ب) استعارہ
(ج) تلمیح

Teacher's Note:
a) حرفِ تشبیہ "مانند" تشبیہ کی پہچان ہے۔
b) بیٹے کو براہِ راست "رستم" کہنا استعارہ ہے اور "کوہِ طور" ایک مشہور واقعے کی طرف اشارہ ہے، اس لیے تلمیح ہے۔

 

(ii) کلام میں دو ایسے الفاظ استعمال کرنا جو ایک دوسرے کی ضد ہوں، کیا کہلاتا ہے؟(متبادل جوابوں میں سے درست جواب چن کر لکھیے) [1 Mark]
(A) تشبیہ
(B) استعارہ
(C) کنایہ
(D) تضاد

Answer: (D) تضاد

Teacher's Note:
a) ضد رکھنے والے الفاظ جیسے دن اور رات، ایک ساتھ لانا صنعتِ تضاد ہے۔
b) تشبیہ اور استعارہ علمِ بیان سے ہیں، جب کہ تضاد علمِ بدیع کی صنعت ہے۔

 

(iii) درج ذیل میں سے حسنِ تعلیل کسے کہتے ہیں؟(متبادل جوابوں میں سے درست جواب چن کر لکھیے) [1 Mark]
(A) کسی بات کا فرضی سبب بیان کرنا
(B) کسی مشہور واقعے کی طرف اشارہ کرنا
(C) کلام میں متضاد الفاظ جمع کرنا
(D) کسی لفظ کو مجازی معنی میں استعمال کرنا

Answer: (A) کسی بات کا فرضی سبب بیان کرنا

Teacher's Note:
a) تعلیل کا مطلب علت یعنی سبب بیان کرنا ہے، اور حسنِ تعلیل میں یہ سبب اصلی نہیں بلکہ فرضی ہوتا ہے۔
b) متبادل (B) تلمیح اور (C) تضاد کی تعریف ہے۔

 

12. ‘محاورے اور کہاوتوں’ سے متعلق درج ذیل سوالوں کے جواب دیجیے۔ [5 Marks]

 

(i) درج ذیل میں سے تین محاوروں کے معنی لکھ کر جملوں میں استعمال کیجیے۔ [3 Marks]
(الف) نو دو گیارہ ہونا
(ب) پانی پانی ہونا
(ج) اپنا راگ الاپنا
(د) آستین کا سانپ ہونا
(ہ) پاپڑ بیلنا

Answer:
(الف) نو دو گیارہ ہونا (بھاگ جانا): پولیس کو دیکھ کر چور نو دو گیارہ ہو گیا۔
(ب) پانی پانی ہونا (شرمندہ ہونا): اُس کے جھوٹ سے پردہ اٹھا تو وہ پانی پانی ہو گیا۔
(ج) اپنا راگ الاپنا (صرف اپنی ہی بات کہنا): وہ کسی کی نہیں سنتا، بس اپنا ہی راگ الاپتا رہتا ہے۔

Teacher's Note:
a) ہر محاورے کے معنی اور جملہ دونوں لکھیے، صرف معنی لکھنے سے پورے نمبر نہیں ملتے۔
b) جملہ ایسا بنائیے جس سے محاورے کا مطلب صاف ظاہر ہو۔

 

(ii) درج ذیل میں سے کس کے آخر میں فعل آنا ضروری ہے؟(متبادل جوابوں میں درست جواب چن کر لکھیے)۔ [1 Mark]
(A) محاورہ
(B) کہاوت
(C) فقرہ
(D) روزمرہ

Answer: (A) محاورہ

Teacher's Note:
a) محاورہ عام طور پر مصدر پر ختم ہوتا ہے، جیسے "پانی پانی ہونا"، "پاپڑ بیلنا"۔
b) کہاوت ایک مکمل جملہ ہوتی ہے، جیسے "لاکھ کا گھر خاک ہو گیا"۔

 

(iii) درج ذیل میں کہاوت کی نشاندہی کیجیے:(متبادل جوابوں میں درست جواب چن کر لکھیے) [1 Mark]
(A) آنکھوں میں خار لگنا
(B) لہو لگا کر شہیدوں میں ملنا
(C) لاکھ کا گھر خاک ہو گیا
(D) آنکھوں پر پردہ پڑ جانا

Answer: (C) لاکھ کا گھر خاک ہو گیا

Teacher's Note:
a) باقی تینوں متبادل مصدر ("لگنا"، "ملنا"، "پڑ جانا") پر ختم ہوتے ہیں، اس لیے محاورے ہیں۔
b) (C) ایک مکمل جملہ ہے، اس لیے کہاوت ہے۔

 

13. ‘رموزِ اوقاف’ سے متعلق درج ذیل سوالوں کے جواب دیجیے۔ [2 Marks]

 

(i) درج ذیل میں سے ‘رابطہ’ کی علامت بتائیے؟(متبادل جوابوں میں سے درست جواب چن کر لکھیے۔) [1 Mark]
(A) ؟
(B) ؛
(C) !
(D) :

Answer: (D) :

Teacher's Note:
a) رابطہ کی علامت ( : ) ہے اور یہ عام طور پر کسی بات یا فہرست سے پہلے لگائی جاتی ہے۔
b) (A) سوالیہ، (B) وقفہ اور (C) ندائیہ کی علامت ہے۔

 

(ii) اس علامت کو کیا کہتے ہیں جو کسی ایک لفظ یا فقرے کے بعد تھوڑا سے ٹھہرنے کے لیے لگاتے ہیں؟(متبادل جوابوں میں سے درست جواب چن کر لکھیے)۔ [1 Mark]
(A) ختمہ
(B) سکتہ
(C) رابطہ
(D) سوالیہ

Answer: (B) سکتہ

Teacher's Note:
a) سکتہ ( ، ) سب سے چھوٹے ٹھہراؤ کے لیے لگایا جاتا ہے۔
b) ختمہ ( ۔ ) جملہ پورا ہونے پر لگتا ہے۔

 

14. ‘شعری اصطلاحات’ سے متعلق درج ذیل سوالوں کے جواب دیجیے۔ [3 Marks]

 

(i) ‘قافیہ’ کسے کہتے ہیں؟ درج ذیل شعر کے قافیے لکھیے: [2 Marks]
آلامِ روزگار کو آساں بنا دیا
جو غم ہوا، اُسے غم جاناں بنا دیا

Answer:
شعر میں ایک جیسی آواز پر ختم ہونے والے الفاظ کو ‘قافیہ’ کہتے ہیں۔
اس شعر کے قافیے ہیں: آساں، جاناں

Teacher's Note:
a) تعریف کا ایک نمبر اور قافیوں کا ایک نمبر ہے۔
b) "بنا دیا" ردیف ہے، اسے قافیہ نہ لکھیے۔

 

(ii) غزل کے آخری شعر کو کیا کہتے ہیں؟(متبادل جوابوں میں سے درست جواب چُن کر لکھیے)۔ [1 Mark]
(A) مطلع
(B) حسنِ مطلع
(C) مقطع
(D) قطعہ

Answer: (C) مقطع

Teacher's Note:
a) مقطع غزل کا آخری شعر ہے جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔
b) مطلع غزل کا پہلا شعر ہوتا ہے، دونوں کو آپس میں نہ ملائیے۔

 

Section D (حصہ د)

 

15. درج ذیل میں سے صرف دو سوالوں کے جواب لکھئے۔ [4 Marks]

 

(i) سر سید نے راجہ رام موہن رائے کو کس عمر میں دیکھا تھا؟ [2 Marks]

Answer: سر سید نے راجہ رام موہن رائے کو اس وقت دیکھا تھا جب ان کی عمر تقریباً آٹھ یا نو برس رہی ہوگی۔ انہوں نے راجہ رام موہن رائے کو اکبر بادشاہ کے دربار میں دیکھا تھا۔

Teacher's Note:
a) عمر (آٹھ یا نو برس) اور جگہ (اکبر بادشاہ کا دربار) دونوں لکھیے۔
b) "تقریباً" لکھنا نہ بھولیے، کیوں کہ عمر اندازاً بتائی گئی ہے۔

 

(ii) نیا قانون کے آنے سے منگو کوچوان کیوں خوش تھا؟ [2 Marks]

Answer: منگو کوچوان اس لیے خوش تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ جب نیا قانون آ جائے گا تو ہم آزاد ہو جائیں گے اور انگریز ہم پر ظلم نہیں کر پائیں گے۔

Teacher's Note:
a) دو اہم نکات: آزادی ملنا اور انگریزوں کا ظلم ختم ہونا۔
b) یہ بات منگو کی اپنی سوچ تھی، اسے جواب میں واضح کیجیے۔

 

(iii) مایا نے اپنے کپڑے اور زیورات کا کیا کیا؟ [2 Marks]

Answer: مایا نے اپنے تمام اچھے کپڑے اور زیورات کی پٹاری ایک صندوق میں مقفل کر دی اور اس صندوق کی چابی ایک جوہڑ میں پھینک دی۔

Teacher's Note:
a) دو نکات لکھیے: صندوق میں بند کرنا اور چابی جوہڑ میں پھینکنا۔
b) "مقفل" کا مطلب تالا لگا کر بند کرنا ہے۔

 

(iv) مخلوط زبان سے کیا مراد ہے؟ [2 Marks]

Answer: مخلوط زبان سے مراد ایسی زبان ہے جس میں مختلف زبانوں کے الفاظ شامل ہوں۔ مولوی عبدالحق کے مطابق کسی قوم کی اپنی زبان غیر زبان کے میل سے مخلوط ہو جاتی ہے۔

Teacher's Note:
a) اہم نکتہ: مختلف زبانوں کے الفاظ کا شامل ہونا۔
b) اردو کی مثال دے سکتے ہیں، جو مقامی زبان اور فارسی کے میل سے بنی۔

 

16. درج ذیل میں سے صرف دو سوالوں کے جواب لکھئے۔ [4 Marks]

 

(i) "خیموں کا اک جنگل دیکھا" سے اکبر الٰہ آبادی کی کیا مراد ہے؟ [2 Marks]

Answer: جنگل میں بے شمار درخت ہوتے ہیں اور یہاں بھی بے شمار خیمے قطار سے لگے ہوئے تھے۔ اسی لیے شاعر نے کہا کہ خیموں کا اک جنگل دیکھا۔

Teacher's Note:
a) جنگل کے درختوں اور خیموں کی کثرت کے درمیان مشابہت بیان کیجیے۔
b) لفظ "بے شمار" اس جواب کی جان ہے۔

 

(ii) "عمر خضر" سے شاعر کی کیا مراد ہے؟ [2 Marks]

Answer: "عمر خضر" سے شاعر کی مراد طویل عمر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر عمرِ خضر جیسی لمبی عمر بھی مل جائے تو موت کے وقت یہی لگے گا کہ ابھی آئے اور ابھی چلے۔

Teacher's Note:
a) اہم لفظ "طویل عمر" ہے۔
b) شعر کا حوالہ دے کر جواب مکمل کیجیے۔

 

(iii) فانیؔ نے دل کو "نرالی بستی" کیوں کہا ہے؟ [2 Marks]

Answer: فانیؔ نے دل کو "نرالی بستی" اس لیے کہا ہے کیوں کہ دل کی بستی ایک بار اجڑنے کے بعد دوبارہ نہیں بستی۔

Teacher's Note:
a) اہم نکتہ: ایک بار اجڑنے کے بعد دوبارہ نہ بسنا۔
b) "نرالی" یعنی سب سے الگ، اس فرق کو واضح کیجیے۔

 

(iv) تلوک چند محروم نے "حسن عمل اور راست گوئی" سے کیا سمجھانا چاہا ہے؟ [2 Marks]

Answer: اس سے شاعر یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ لوگ اچھے عمل کریں اور سچ بولیں، تاکہ زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں۔

Teacher's Note:
a) "حسن عمل" کا مطلب اچھے کام اور "راست گوئی" کا مطلب سچ بولنا ہے۔
b) نتیجہ ضرور لکھیے: زندگی میں آسانیاں پیدا ہونا۔

 

17. درج ذیل میں سے صرف دو سوالوں کے جواب لکھئے۔ [4 Marks]

 

(i) مصنف نے نور خاں کو "گدڑی کا لال" کیوں کہا ہے؟ [2 Marks]

Answer: مصنف نے نور خاں کو "گدڑی کا لال" اس لیے کہا ہے کیوں کہ وہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہو کر بھی بہت باکمال، ہنرمند اور سچے فرض شناس انسان تھے۔

Teacher's Note:
a) "گدڑی کا لال" اس شخص کو کہتے ہیں جو غریب گھر میں پیدا ہو کر بھی بہت خوبیوں والا ہو۔
b) غریب گھرانا اور باکمال، ہنرمند، فرض شناس ہونا دونوں باتیں لکھیے۔

 

(ii) سلطان کو زیبو خالہ کا باہر جانے پر ٹوکنا کیوں برا لگتا تھا؟ [2 Marks]

Answer: سلطان بچہ تھا اور کھیلنا چاہتا تھا، مگر زیبو خالہ اسے کھیلنے سے روکتی تھی۔ اسی لیے اسے زیبو خالہ کا ٹوکنا برا لگتا تھا۔

Teacher's Note:
a) وجہ: بچے کی کھیلنے کی خواہش اور خالہ کا روکنا۔
b) جواب "اسی لیے" کے ساتھ نتیجے پر ختم کیجیے۔

 

(iii) مصنف نے جب فقیر کو نوکری کی پیشکش کی تو اس نے کیا تنخواہ مانگی اور کیوں؟ [2 Marks]

Answer: فقیر نے تیس روپے ماہوار تنخواہ مانگی، کیوں کہ اسے ایک بیوی اور تین بچوں کے ساتھ ساتھ ایک گائے کا پیٹ بھی بھرنا تھا۔

Teacher's Note:
a) سوال کے دو حصے ہیں: تنخواہ کتنی (تیس روپے ماہوار) اور کیوں۔
b) بیوی، تین بچوں اور گائے تینوں کا ذکر کیجیے۔

 

(iv) کس کھیل کو کھیلوں کا راجا کہا گیا ہے اور کیوں؟ [2 Marks]

Answer: گلی ڈنڈا کو کھیلوں کا راجا کہا گیا ہے، کیوں کہ اس میں کوئی رقم خرچ نہیں ہوتی اور زیادہ کھلاڑیوں کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔

Teacher's Note:
a) پہلے کھیل کا نام (گلی ڈنڈا) لکھیے، پھر وجہ بتائیے۔
b) دونوں وجوہات لکھیے: خرچ نہ ہونا اور زیادہ کھلاڑیوں کی ضرورت نہ ہونا۔

 

18. درج ذیل میں سے کسی ایک پر مختصر نوٹ لکھئے۔ [3 Marks]
ڈرامہ۔ افسانہ۔ غزل۔

Answer:
ڈرامہ:
ڈرامہ یونانی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں "کر کے دکھانا"۔ ڈرامہ ادب کی ایک ایسی صنف ہے جس میں کرداروں، مکالموں اور مناظر کے ذریعے کسی کہانی کو پیش کیا جاتا ہے۔ ارسطو نے ڈرامے کو زندگی کی نقالی کہا ہے۔ ڈرامے میں کرداروں کی ذہنی کشمکش کو مکالمے اور آواز کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
افسانہ:
افسانے کی ابتدا بیسویں صدی کے آغاز میں ہوئی۔ افسانہ اس کہانی کو کہتے ہیں جس میں زندگی کی سچائیاں بیان کی جاتی ہیں۔ ایک نقاد کے مطابق افسانہ ایسی نثری تخلیق ہے جو ایک ہی نشست میں پڑھی جا سکے، اور دوسرے نقاد کے مطابق افسانے میں بنیادی چیز وحدتِ تاثر ہے۔ افسانے کے کردار ہماری زندگی اور تجربوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ افسانے کے فن میں پلاٹ، کردار، تکنیک اور زبان و اسلوب کی خاص اہمیت ہے۔ مختصر یہ کہ افسانہ ایسی نثری صنف ہے جس میں کسی ایک واقعے یا زندگی کے کسی ایک پہلو کو کم سے کم الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔
غزل:
غزل کے لغوی معنی ہیں عورتوں سے باتیں کرنا یا عورتوں کی باتیں کرنا، اسی لیے غزل میں عام طور پر عشقیہ مضامین نظم ہوتے ہیں، لیکن آہستہ آہستہ اس میں دوسرے مضامین بھی شامل ہوتے گئے اور اب دنیا کے ہر موضوع پر شعر کہے جا رہے ہیں۔ غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ غزل کے آخری شعر کو مقطع کہتے ہیں جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔ اگر کسی غزل میں دو مطلعے ہوں تو دوسرے مطلع کو حسنِ مطلع کہتے ہیں۔ غزل میں اشعار کی تعداد کی قید نہیں ہے اور اس کا ہر شعر الگ موضوع پر ہو سکتا ہے۔

Teacher's Note:
a) امتحان میں تینوں میں سے صرف ایک صنف پر نوٹ لکھنا ہے۔
b) نوٹ میں صنف کی تعریف، لفظ کے معنی یا ابتدا، اور اس کے اہم اجزا (جیسے مطلع، مقطع یا پلاٹ، کردار) لکھیے۔
c) تین نمبر کے لیے کم از کم تین واضح نکات ضروری ہیں۔

Exam Preparation Sample Paper for Class 10 Urdu Course A CBSE Class 10 Urdu Course A Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download

Download Sample Paper: CBSE Class 10 Urdu Course A Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download (Class 10 Urdu Course A)

Access structured sample papers for Class 10 Urdu Course A. Solving the CBSE Class 10 Urdu Course A Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download provided above helps students understand official exam blueprints and tackle anticipated question formats with confidence.

Maximize Your Scores with Model Papers

  • Original Practice Material: Access unique questions for Urdu Course A designed to challenge your understanding.
  • Self-Assessment: Evaluate scores per set to pinpoint weak zones in Class 10 Urdu Course A.
  • Exam Completion Skills: Routine problem sets train you to manage test duration efficiently without stress.

How to Analyze Your Performance in CBSE Class 10 Urdu Course A Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download

  1. Verify Answers: Compare your responses against professional teacher solutions provided in the sample paper keys.
  2. Error Analysis: Class 10 learners must review incorrect answers carefully to understand underlying mistakes.
  3. Concept Reinforcement: Consult the official NCERT book for Class 10 Urdu Course A when stuck before re-attempting problems.

FAQs

Where can I download the PDF for CBSE Class 10 Urdu Course A Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download?

You can download the complete PDF for CBSE Class 10 Urdu Course A Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download for free from StudiesToday.com. Our resources for Class 10 Urdu Course A are updated for the latest academic session and follow the official exam pattern.

Are solutions provided for CBSE Class 10 Urdu Course A Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download?

Yes, CBSE Class 10 Urdu Course A Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download comes with detailed, teacher-verified solutions. We have provided step-by-step answers for Urdu Course A to help students of Class 10 understand correct methodology and marking scheme.

How can practicing CBSE Class 10 Urdu Course A Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download help in exam preparation?

Practicing this Urdu Course A paper helps in time management and identifying important topics. For Class 10, solving mock papers is the best way to gain confidence and reduce exam-day anxiety.

Is the CBSE Class 10 Urdu Course A Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download accessible on mobile and tablets?

Yes, all our study materials for Class 10 Urdu Course A are provided in a mobile-friendly PDF format. You can easily download CBSE Class 10 Urdu Course A Sample Paper 2026 27 with Solutions PDF Download on your mobile device.