NCERT Class 7 Urdu Khayaal Chapter 09 Dr Sarvepalli Radhakrishnan PDF Download

Class 7 Urdu Chapter 09 Dr Sarvepalli Radhakrishnan: NCERT Study Material

Explore the complete NCERT textbook for Class 7 Urdu. Tailored for the 2026-27 curriculum, this resource breaks down complex topics to help students prepare effectively for school examinations.

Read and Download Chapter 09 Dr Sarvepalli Radhakrishnan

Access the complete PDF for Chapter 09 Dr Sarvepalli Radhakrishnan below. This focused excerpt allows students to isolate specific topics for thorough review. Cross-reference your textbook exercises with our detailed NCERT Solutions for Class 7 Urdu.

سبق 9: ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن

ہمارے ملک میں اساتذہ کی حیثیت ایک نعمت کی رہی ہے جن سے استفادہ کا سلسلہ صدیوں سے آج تک جاری ہے۔ ان کے دیے ہوئے سبق کی روشنی صرف کلاس کے کمروں تک ہی محدود نہیں بلکہ ساری دنیا میں پھیلتی رہی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ڈاکٹر سروپلّی رادھا کرشنن ہیں جو فلسفے میں غیر معمولی حیثیت رکھنے والے استاد تھے۔ وہ پہلے ہندوستانی ہیں جنھوں نے دماغوں کو روشن کرنے والے اپنے لیکچر اور علمی کتابوں کے ذریعے ہندوستانی فلسفے کو مغربی ملکوں کے سامنے پیش کیا تھا۔

رادھا کرشنن 5/ستمبر 1888 کو تیروتانی کے مقام پر پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سروپلی ویرسومیّا اور ماں کا نام سیتامّا تھا۔ سروپلی آندھرا پردیش کا ایک گاؤں ہے جہاں سے رادھا کرشنن کے بزرگ ہجرت کر کے تامل ناڈو میں آباد ہو گئے تھے۔ ویرسومیّا ایک زمینداری میں بہت معمولی ملازم تھے۔

رادھا کرشنن کی اسکولی تعلیم پہلے تیروتانی اور بعد میں تروپتی کے لوتھیرن مشن اسکول میں ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے ویلّور کے وورہیس (Voorhees) کالج میں تعلیم حاصل کی۔

ڈاکٹر سروپلّی رادھا کرشنن کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے بچپن میں نامساعد حالات، مالی مشکلات اور دوسرے خانگی مسائل کے باوجود اپنی ہمت اور حوصلے سے بلند ترین مقامات حاصل کیے۔ وظیفوں کی مدد سے انھوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ ان کی صلاحیت اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے ان کے اساتذہ کا مشورہ تھا کہ انھیں اعلیٰ تعلیم کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی جا کر تعلیم حاصل کرنا چاہیے۔ خود ان کی بھی خواہش تھی لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا۔ اپنے خاندان کی قلیل آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے انھیں دورانِ طالب علمی میں ہی کام کرنا پڑا۔ اُنھیں اپنے وہ سونے کے تمغے بھی فروخت کرنے پڑے جو انھیں کئی امتحانوں میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے پر ملے تھے۔ اپنے ملک میں رہ کر ہی انھوں نے اپنی ذہانت، محنت اور لگن سے اعلیٰ ترین تعلیمی سفر، شاندار کامیابی کے ساتھ طے کیا اور ایک منفرد مقام حاصل کیا۔

[تصویر: ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن، اپنی درسی کتاب میں دیکھیں]

استاد کا نوٹ

الف) رادھا کرشنن کی پیدائش: 5/ستمبر 1888، تیروتانی؛ والد سروپلی ویرسومیّا اور والدہ سیتامّا۔
ب) تعلیمی سفر کی ترتیب یاد رکھیے: تیروتانی، پھر تروپتی کا لوتھیرن مشن اسکول، اور پھر ویلّور کا وورہیس (Voorhees) کالج۔
ج) 'نامساعد حالات' یعنی مشکل حالات، 'خانگی' یعنی گھریلو، اور 'قلیل' یعنی تھوڑی۔

ایم۔اے کے بعد رادھا کرشنن 1909 میں مدراس پریسیڈنسی کالج میں اسسٹنٹ لیکچرر ہو گئے۔ یہ ان کی تدریسی زندگی کا آغاز تھا۔

انھوں نے ہندوستانی کلاسیکی فلسفے کو سمجھنے کے لیے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا جن میں اُپ نِشد، بھگوت گیتا اور بدھ مت کی بنیادی تحریریں خاص ہیں۔ انھوں نے چینی اور مغربی ملکوں کے فلسفے کا بھی مطالعہ کیا۔ مغربی فلسفے نے ڈاکٹر رادھا کرشنن کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ رفتہ رفتہ پتلا دبلا سا جسم، بڑا سا سر، چشمہ لگائے، کھلی روشن پیشانی، پتلی عقابی ناک، ایک لمبا پیلا سا کوٹ، سفید پگڑی اور بے داغ سفید دھوتی میں ملبوس یہ شخص علمی دنیا کے لیے ایک جانی پہچانی شخصیت بنتا چلا گیا۔

مدراس کے پریسیڈنسی کالج کے طالب علموں کا کہنا ہے کہ ان کا لیکچر موضوع کی وضاحت اور صفائی میں بے مثال ہوتا تھا۔ اس نوجوان استاد کا ان کے طالب علم دل سے احترام کرتے تھے۔ انھوں نے کبھی کلاس میں ایک لفظ سخت نہیں کہا مگر ان کی کلاس کا نظم و ضبط سب سے بہتر تھا۔

ایک مثالی اور ممتاز استاد کی حیثیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ رادھا کرشنن نے کئی علمی مضامین لکھے جو دنیا کے اہم جریدوں میں شائع ہوئے، جن سے لوگ بے حد متاثر ہوئے۔ ان کی علمیت، قابلیت اور مقبولیت کو دیکھتے ہوئے 1918 میں رادھا کرشنن کو میسور یونیورسٹی میں فلسفے کا پروفیسر مقرر کیا گیا۔

ڈاکٹر رادھا کرشنن کی پہلی کتاب 'دی فلاسفی آف رابندر ناتھ ٹیگور' (The Philosophy of Rabindranath Tagore) کے عنوان سے شائع ہوئی۔ دو سال بعد 1920 میں اُن کی دوسری کتاب، 'دی رین آف ریلیجن اِن کانٹمپریری فلاسفی' (The Reign of Religion in Contemporary Philosophy) منظرِ عام پر آئی۔

[تصویر: کتابوں کے سامنے لیکچر دیتے ڈاکٹر رادھا کرشنن، اپنی درسی کتاب میں دیکھیں]

استاد کا نوٹ

الف) تدریسی زندگی کی تاریخیں یاد رکھیے: 1909 میں مدراس پریسیڈنسی کالج میں اسسٹنٹ لیکچرر، 1918 میں میسور یونیورسٹی میں فلسفے کے پروفیسر۔
ب) ان کی پہلی کتاب 'دی فلاسفی آف رابندر ناتھ ٹیگور' تھی اور دوسری کتاب 1920 میں آئی۔
ج) 'جریدہ' یعنی رسالہ یا جرنل؛ 'عقابی ناک' یعنی عقاب کی چونچ جیسی خم دار ناک۔

Free study material for Urdu

Chapter 09 Dr Sarvepalli Radhakrishnan Digital Textbook & Resources for Class 7 Urdu

Class 7 Urdu Chapter 09 Dr Sarvepalli Radhakrishnan Official E-Book

Secure your copy of the NCERT Textbook for Class 7 Urdu Chapter 09 Dr Sarvepalli Radhakrishnan. Widely adopted across educational institutions, final question papers map directly to the framework outlined in this chapter.

English Medium NCERT Textbooks for Class 7

Access a full archive of NCERT books in English Medium tailored for Class 7 courses. Units like Chapter 09 Dr Sarvepalli Radhakrishnan deliver in-depth concepts and thorough review questions at the section close.

Additional Study Resources for Class 7 Urdu

Built to foster deep conceptual mastery, this manual serves as an ideal study tool. Complement your textbook reading by exploring our professional NCERT Solutions and revision notes online.

FAQs

Where can I download the latest NCERT Class 7 Urdu Khayaal Chapter 09 Dr Sarvepalli Radhakrishnan PDF Download in PDF for 2026-27?

You can download the latest, teacher-verified PDF for NCERT Class 7 Urdu Khayaal Chapter 09 Dr Sarvepalli Radhakrishnan PDF Download for free on StudiesToday.com. These digital editions are updated as per 2026-27 session and are optimized for mobile reading.

Does this Urdu book follow the latest NCERT rationalized syllabus?

Yes, our collection of Class 7 Urdu NCERT books follow the 2026 rationalization guidelines. All deleted chapters have been removed and has latest content for you to study.

Why is it better to download NCERT Class 7 Urdu Khayaal Chapter 09 Dr Sarvepalli Radhakrishnan PDF Download chapter-wise?

Downloading chapter-wise PDFs for Class 7 Urdu allows for faster access, saves storage space, and makes it easier to focus in 2026 on specific topics during revision.

Are these NCERT books for Class 7 Urdu sufficient for scoring 100%?

NCERT books are the main source for NCERT exams. By reading NCERT Class 7 Urdu Khayaal Chapter 09 Dr Sarvepalli Radhakrishnan PDF Download line-by-line and practicing its questions, students build strong understanding to get full marks in Urdu.